3 مئی 2015
وقت اشاعت: 9:15
خلیجی عرب ریاستیں ایرانی ایٹمی معاہدے کی حمایت پر تیار،امریکی اخبار
جیو نیوز - نیویارک......... امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیجی ریاستیں ایرانی ایٹمی معاہدے کی حمایت کے بدلے امریکا سے جدید ہتھیار اور ممکنہ حملے کی صورت میں امریکی مداخلت کے سمجھوتے کی خواہش مند ہیں۔ وال اسٹریٹ جنرل نے یہ بات امریکی اور عرب سرکاری ذرائع کے حوالے سے کہی۔ وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق با اثر خلیجی عرب ممالک نے اس بات کا عندیہ ظاہر کیا ہے کہ وہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے ممکنہ ایٹمی معاہدے کی حمایت کرسکتے ہیں اگر امریکا انہیں سلامتی کے تحفظ کی ضمانت دینے کے علاوہ جدید ہھتیار فراہم کرے۔ جریدے کے مطابق بحرین، کویت، اومان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنما 13 مئی کو وائٹ ہائوس میں صدر باراک اوباما سے ملاقات کریں گے۔ ملاقات کے دوران امریکا سے جدید ترین فائٹر طیارے ایف 35، جدید میزائل، میزائل دفاعی نظام، جاسوسی اور نگرانی کے آلات کے علاوہ ڈرونز فراہم کرنے کی درخواست کی جائے گی۔ جریدے کے مطابق خلیجی رہنما صدر اوباما سے ملاقات میں امریکا اور خلیجی ریاستوں سے نئے دفاعی معاہدوں کے لیے بھی زور دیں گے، جس کے تحت اگر انہیں ایران کی جانب سے کسی بھی قسم کا خطرہ محسوس ہو تو امریکا مداخلت کرسکے گا۔ متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زائد النہیان نے گزشتہ ماہ ہی صدر اوباما سے وائٹ ہائوس میں ملاقات کی اور ان سے سیکورٹی معاملات پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری بھی اس سلسلے میں 8 مئی کو پیرس میں خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کررہے ہیں۔ خلیجی ممالک میں سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات امریکا سے اسلحے کے بڑے خریدار میں شمار ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال سعودی عرب نے 80 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ خریدا تھا، جبکہ عرب امارات نے 23 ارب ڈالر کا اسلحہ خریدا۔