21 اگست 2015
وقت اشاعت: 17:34
امریکا نے ایران کو بدی کا محور کہا، ایران نے امریکا کو شیطان بزرگ
جیو نیوز - کراچی......ایران اور امریکا کے تعلقات میں گزشتہ کئی دہائیوں میں کافی اتار چڑھاو دیکھنے آیا۔ کبھی امریکا نے ایران کو بدی کو محور قرار دیا تو کبھی ایران نے اسے بڑے شیطان سے تشبیہ دی اور تمام پریشانیوں کی جڑکہا۔ دونوں ملکوں کے ماضی کے تعلقات زیادہ تر کشیدہ رہے۔ عالمی منظرنامے میں دوستیاں اور دشمنیاں بدلتی رہتی ہیں اورایسا ہی ہم نے ایران اور امریکا کے تعلقات میں بھی دیکھا ہے۔ دونوں ملکوں کے تعلقات حالانکہ 1883ء سے قائم ہیں، مگر شاید کبھی ایران امریکا کو اور کبھی امریکا ایران کو نہ سمجھ سکا۔ امریکا کی جانب سے ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا سلسلہ 1953ء میں شروع ہوا۔ جب ایران کے جمہوری اور منتخب وزیر اعظم۔محمد مصدق کا تختہ سی آئی نے برطانیہ کی مدد سے الٹا اور محمد رضا شاہ پہلوی کو مسند اقتدار پر بٹھایا۔ شاہ کے دور میں ایران امریکا تعلقات میں کافی بہتری آئی،جس میں کئی کروڑ ڈالر کی امداد بھی ایران کو دی گئی، مگر شاہ کیخلاف بڑھتا ہوا عوامی غم و غصہ 1979ء میں انقلاب کی صورت میں نکلا۔ شاہ نے امریکا پہنچ کر جان بچائی، مگر بعد کے واقعات ایران اور امریکا کے تعلقات میں گہری دراڑ ڈال گئے۔ جس میں تہران میں امریکی سفارت خانے کے 52 سفارکاروں کو 444 دن تک یرغمال بنانے کا واقعہ کافی اہم تھا۔ جنوری 1981ءمیں سفارت کاروں کو تو چھوڑ دیا گیا مگر دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات مکمل طور پر ختم ہوگئے۔ امریکا اور ایران کے تعلقات میں سرد مہری کیا آئی ایران کا جوہری پروگرام پر بھی عالمی توجہ مرکوز ہوگئی۔ 2002ء سے جاری یہ تنازع آج بالآخر مذاکرات کی میز پر حل ہوگیا ہے، جس سے امریکا اور ایران کے تعلقات میں بہتری کی امید بھی ہوچلی ہے۔