تازہ ترین سرخیاں
 عالمی خبریں 
23 اگست 2015
وقت اشاعت: 7:32

قدرتی آفات :گزشتہ برس سو ممالک میں دو کروڑافراد بے گھر ہوئے

جیو نیوز - کراچی.... رفیق مانگٹ.......سیلاب، طوفان اور زلزلے نے 2014 مےںلاکھوں لوگوں کوبے گھرکر دیا۔ امریکی جریدے ”نیوز ویک“ نے ناروے کے تھنک ٹینک کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ گزشتہ سات برسوں میں قدرتی آفات سے تباہی نے ہر ایک سیکنڈ میں ایک شخص کو بے گھر کیا۔یہ تباہی قدرت کی طرف سے نہیں بلکہ انسانوں کی پیداکردہ ہے۔ نارویجئین ریفوجی کونسل نامی تھنک ٹینک کی رپورٹ کہتی ہے کہ 2014 میں سو ممالک میں ایک کروڑ نوے لاکھ( 19ملین) لوگ قدرتی آفات کی وجہ سے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ قدرتی آفات سے نقل مکانی میں اضافہ ہوا۔ سیلاب اور طوفان جیسے موسمیات سے متعلقہ واقعات نے 2014میں ایک کروڑ  75لاکھ افراد کو بے گھر کیا جب کہ سترہ لاکھ افراد زلزلوں جیسی جغرافیائی تبدیلیوں کی وجہ سے بے گھر ہوئے۔2008 کے بعد سے قدرتی آفات نے ہر سال اوسطاً دو کروڑ 64لاکھ افراد کو بے گھر کیا ،یعنی اس کرہ ارض پر گزشتہ سات برس میں فی سیکنڈ ایک شخص بے گھر ہوا۔ان کے بے گھر ہونے میں موسمیاتی تبدیلی، اقتصادی ترقی، شہر کاری اور آبادی میں اضافہ جیسے زہرآلود عوامل شامل ہیں۔ NRC کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ آفات سے لاکھوں انسانوں کی تباہی قدرتی قوتیں یا عوامل سے نہیں بلکہ انسان کی بنائی ہوئی پالیسیاں اور اسٹرکچر ہے۔ سیلاب بذات خود ایک آفت نہیں ہے۔ تباہ کن صورت حال اس وقت وقوع پزیر ہوتی ہے جب لوگ اس صورت حال کےلئے تیار نہ ہوں اور جب وہ اس کا شکارہوں تو انہیں بچایا نہ جاسکے۔رپورٹ میں 2010 ءکے ہیٹی کے زلزلے، بوسنیا اور ہرز یگوینا کے سیلاب اور انڈونیشیا میں مٹی کے تودوں سے تباہی کا جائزہ لیا گیا ۔2014میں ایشیاءمیں سب سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے جو مجموعی بے گھر افردا کا 88فی صد یا ایک کروڑ 67لاکھ بنتے ہیں اس کے بعد امریکا اور افریقا آتے ہیں۔ چار دہائیوں پہلے کے مقابلے میں آج قدرتی آفت سے 60 فیصد زیادہ بے گھر ہونے کا امکان ہے۔اس وقت دنیا کو درجہ حرارت میں اضافے کی طرف سے درپیش خطرات ہیں۔ بھارت میں2330اور پاکستان میں ایک ہزار سے زائد افراد کی گرمی میں ہلاکت کے بعد اقوام متحدہ نے اس سلسلے میں رواں ماہ پہلی گائیڈ لائن جاری کی۔ نقل مکانی میں اضافے کی وجہ موسم اور آب و ہوا سے متعلق خطرات اورخاص کر سیلاب ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا آئندہ دہائیوں میںشدید موسم کے واقعات خطرناک صورت حال اختیار کریں گے۔ موسمیاتی تبدیلی سے خطرے کا سامنا ہوگا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.