24 اگست 2015
وقت اشاعت: 0:3
بنگلادیش کا گاؤں انسانی اسمگلنگ کا مرکز بن گیا
جیو نیوز - ڈھاکا........بنگلا دیش اور میانمار کے سرحدی جزیرے کے گاؤں میں انسانی اسمگلنگ کا دھندا اپنے عروج پر ہے ۔ اسمگلر لوگوں کو یرغمال بنالیتے ہیں اور لواحقین سے تاوان کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بنگلا دیش کا گاؤں شاہ پورڈوئپ میانمار کے ساتھ سرحدی جزیرے پر واقع ہے۔ یہاں انسانی اسمگلنگ کے گھناونے کاروبار پر انکشاف تھائی لینڈ کے سرحدی علاقے میں قبروں کی موجودگی سے ہوا ۔ انسانی اسمگلنگ کے اس دھندے سے گاوں کی پولیس ، ماہی گیر ، دکان دار اور افسران سب ہی آگاہ ہیں اور بلاواسطہ یا بالواسطہ طور پر شریک بھی ہیں ۔ انسانی اسمگلر لوگوں کو بیرون ملک ملازمت دلانے کے بہانے کھلے سمندر میں لے جاتے ہیں اور تھائی لینڈ کے سرحدی علاقے میں واقع کیمپوں میں قید کردیتے ہیں ، پھر ان کے لواحقین سے رہائی کے عوض تین ہزار ڈالر طلب کیے جاتے ہیں ۔ اس گھناونے دھندے کا شکار ہونے والوں میں روہنگیا مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے۔