25 اگست 2015
وقت اشاعت: 4:19
ٹیکسوں سے بچنے کیلئے بیالیس ہزارلکھ پتی فرانسیسی دوسرے ممالک منتقل
جیو نیوز - پیرس..... رضا چوہدری......فرانس میںٹیکسوں سے بچنے کےلئے بیالیس ہزارلکھ پتی فرانسیسی دوسرے ممالک میں منتقل ہوگئے ہیں ۔ فرانسیسی میڈیا رپورٹ کے مطابق ’نیو ورلڈ ویلتھ‘ اور ایل آئی اوگلوبل کی طرف سے مشترکہ طور پر جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق 2000 سے 2014 کے دوران 42 ہزار لکھ پتی فرانسیسی ٹیکسوں سے بچنے کے لیے دوسرے ممالک منتقل ہوئے ۔فرانس کے علاوہ دنیاکے دیگر ممالک سے بھی لکھ پتی افراد ٹیکسوں سے بچنے ،سیاسی اور امن و امان کی خراب صورت حال سمیت دیگر معاملات کے باعث اپنے اپنے ممالک چھوڑنے والوں میںدوسری بڑی تعداد بھارتیوں کی ہے جو تقریباً 61 ہزارہے،جنہوں نے سکیورٹی اور بچوں کی تعلیم جیسی وجوہات کے سبب بھارت سے منتقلی کا انتخاب کیا۔اس فہرست میں چینی شہری اول نمبر پر ہیں جن کی تعداد تقریباً 91 ہزار ہے جو چین چھوڑ کر دوسرے ممالک میں جا بسے ہیں۔ اٹلی کے 23 ہزار اور روس کے 20 ہزار لکھ پتی شہری دوسرے ملکوں کو ہجرت کر گئے۔’نیو ورلڈ ویلتھ‘ اور ایل آئی اوگلوبل کی رپورٹ کے مطابق ’زیادہ تر بھارتیوں متحدہ عرب امارات، برطانیہ، امریکا، سنگاپور اور آسٹریلیا کا رخ کیا جبکہ چین کے کروڑ پتیوں کی منزل امریکا، ہانگ کانگ، سنگاپور اور برطانیہ رہی ۔رپورٹ کے مطابق، برطانیہ میں باہر سے آنے والے ایسے امیر لوگوں کی تعداد گزشتہ 14 برسوں میں تقریباً سوا لاکھ تک پہنچ گئی ، 52 ہزارلکھ پتی امریکا میں جا کر بسے جبکہ ہجرت کرنے والے لکھ پتی افراد کی تیسری پسندیدہ جگہ سنگاپور ہے جہاں تقریباً 46 ہزار افرادجاکر آباد ہوئے۔ پیرس میں ٹیکسی چلانے والے ایک پاکستانی طارق چوہدری کا کہنا ہے کہ امرا ءکا اپنا آبائی ملک چھوڑنے کی وجوہات ہر ملک کی مختلف ہیں ، 42 ہزار فرانسیسیوں کی ملک چھوڑنے کو ملک میں برھتے ہوئے ٹیکس کے نظام کو قرار دیا۔61 ہزار بھارتی لکھ پتیوں کا ملک کو چھوڑنا وہاں کی سیکورٹی اور ملک میں بڑھتی ہو ئی انارکی اور بھارت کا ہمسایہ ممالک کے ساتھ جنگی جنون قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں بی جے پی کی پچھلے 14 سالوں سے سیاست اہم کردار اور مودی حکومت کے قیام نے بھارتی امرا ءکو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا۔