تازہ ترین سرخیاں
 دلچسپ خبریں 
3 جولائی 2011
وقت اشاعت: 14:1

عظیم لوک فنکار الن فقیر کو ہم سے بچھڑے 11برس ہو گئے

کراچی : سندھی زبان کے لوک فنکار اور صوفیانہ کلام گانے میں مہارت رکھنے والے الن فقیرکی آج گیارہویں برسی ہے۔ انہوں نے عارفانہ کلام کی گائیکی کو ایک الگ شناخت دی خاص طور پر شاہ صاحب کے کلام کو بڑی خوبصورتی سے گایا۔



سندھ کے صوفی شاعر شاہ عبد الطیف بھٹائی نے عشق حقیقی میں ڈوب کر جو معرکتہ آراء کلام تخلیق کیا اس کی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر دور میں ہر فنکار کے سروں کو سجا دیتا ہے ۔ الن فقیر کے سر وں کی خاصیت بھی یہی تھی۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو ان کا یہ کلام (تیرے عشق میں جو بھی ڈوب گیا ۔۔اسے دنیا کی لہروں سے ڈرنا کیا) شاید شہرت کی اتنی بلندیوں تک نہ پہنچتا۔



اسی اور نوے کی دھائیوں میں شہرت کی انتہاکو پہنچنے والا الن فقیر اور محمد علی شہکی کا گایا ہوا یہ گیت ہراعلیٰ سرکاری وغیر سرکاری تقریب اور ہر بڑے چھوٹے میوزک فنکشن میں پیش کیا جاتا تھا ۔یہ ٹی وی فنکشن کا بھی لازمی جز ہوا کرتا تھا۔



الن فقیرکا تعلق صوبہ سندھ کے ایک چھوٹے سے علاقے جام شورو کے مضافات سے تھا جہاں وہ 1922ءمیں پیدا ہوئے۔ وہ زندگی بھر عوامی ،لوک فنکار بن کر اپنے چاہنے والوں کے دلوں پر راج کرتے رہے۔ انہوں نے صوفیانہ کلام گاکر ملک گیر شہرت حاصل کی۔ ان کی گائیکی کا ایک انوکھا انداز تھا جو انہیں دوسرے لوک فنکاروں سے منفرد کرتا ہے۔



انہوں نے اپنی گائیکی کی بدولت کئی ایوارڈ حاصل کئے۔ان میں80 کی دھائی میں ملنے والا صدارتی ایوارڈ سرفہرست ہے۔ان کا انتقال 4 جولائی 2000ء کو ہوا مگروہ آج بھی اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.