1 اگست 2011
وقت اشاعت: 9:40
عظیم گلوکار محمد رفیع کی اکتیسویں بری آج منائی جا رہی ہے
کراچی : گیتوں کے جادوگر محمد رفیع کی اکتیسویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔کون جانتا تھا کہ امرتسر کی گلیوں میں آنے والے فقیر کی بلند صدا محمد رفیع کے دل میں گلوکاری کے شوق کوجنم دے گی اورگلوکاری کا یہ ہی شوق انہیں ممبئی نگری آنے پر مجبور کر دے گا۔ گلوکاری کی باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد محمد رفیع نے تیرہ برس کی عمر میں پہلی بار اسٹیج پر گانا گایا۔
گیتوں اورغزلوں کے جا دو گر محمد رفیع نے یوں تو ہزار یا یادگار گیت گائے ہیں لیکن ملکہ ترنم کے ساتھ گایا ہوا ان کا گانا یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے اور فلم مغل اعظم کا اے محبت زندہ باد آج بھی لوگوں میں مقبول ہے۔
سنجیدہ غزل ہو یا پھر کوئی مستی بھرا گانامحمد رفیع نے ہر گیت کے ساتھ بھر پور انصاف کیا۔انہوں نے تقریبا بھارت کے تمام موسیقاروں کے ساتھ کام کیا۔اور ایسے گیت تخلیق کئے جو آج بھی موسیقی سے شغف رکھنے والوں کے کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ہندی مراٹھی، گجراتی، بنگالی بھوجپوری تامل کے علاوہ کئی زبانوں میں۔ 36000 سے زیادہ گیت گائے۔
دنیا ئے موسیقی میں اپنا یادگار کردار ادا کرنے والے محمد رفیع کی موت حرکت قلب بند ہوجانے کے باعث ہوئی۔ اپنی موت سے چند گھنٹوں قبل ریکارڈ کرایاجانےوالا گیت شام پھر کیوں اداس ہے۔ شام کے ساتھ ساتھ ان کے چاہنے والوں کو بھی اداس کر گیا۔آج وہ ہم میں نہیں لیکن ان کی مدھر آواز آج بھی لوگوں کی سماعتوں میں محفوظ ہے۔