27 اگست 2013
وقت اشاعت: 11:31
ڈاؤ یونیورسٹی کراچی نے سانپ کے کاٹے سے بچاوٴ کی سستی ویکسین تیا رکرلی
کراچی…ڈاؤ یونیورسٹی کراچی کے سائنس دانوں نے سانپ کے کاٹے سے بچاوٴ کی ویکسین تیا رکرلی ہے ،جیسے کلینکل ٹرائیل کے بعد دس دنوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے تاہم سندھ میں ایمرجنسی کی صورت میں ویکسین کو بغیر کلنیکل ٹرائل کے بھی استعمال کیا جاسکتی ہے۔جس کیلئے وفاقی حکومت کی اجازت کی ضرورت ہے۔ڈاو یونیورسٹی کراچی کے سائنسدانوں نے سانپ کے کاٹے سے بچاوٴ کی انتہائی کم قیمت ویکسین تیا رکرلی ہے۔ڈاوٴ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مسعود حمید نے ویکسین کی تیاری کو بڑی کامیابی قراردیتے ہوئے بتایا کہ یہ ویکسین انتہائی کم قیمت میں دستیاب ہوگی۔ڈاکٹر مسعود حمید کا کہنا ہے کہ ویکسین مکمل طور پر تیار ہے لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے کلینکل ٹرائل کے باعث روکی گئی ہے لیکن سیلاب کی اس صورت حال میں انسانی جانوں کو بچانا اہم مسئلہ ہے جس کیلئے ویکسین کو فوری ضرورت کے تحت استعمال کیا جاسکتا ہے۔پاکستان میں ہر سال تین سے چار ہزار افراد سانپ کے کاٹنے سے جاں بحق ہو جاتے ہیں جبکہ ابھی تک ہمارے یہاں سانپ کے کاٹے کا جو سیرم لگایا جا رہا ہے وہ درآمد شدہ ہوتا ہے، جو مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ مقامی سانپوں کے زہر کیلئے اتنا کارگر نہیں، ڈاوٴ یونیورسٹی میں جو ویکسین تیار کی گئی ہے وہ پاکستان میں موجود کوبرا سمیت دیگر خطرناک سانپوں کے اثر کو زائل کرنے میں موثر ہوگی۔