7 جولائی 2014
وقت اشاعت: 17:13
بنوں : نقل مکانی کرکے آنے والے بچے بیماری کے آسان شکار
بنوں......گرمی کے شدید موسم میں والدین کےہمراہ وزیرستان سے نکلنے والے دولاکھ سے زیادہ بچے بیماریوں کا انتہائی آسان شکارہیں جن میں سے چالیس فی صد کوپینے کا صاف پانی نہ ملنا ان کی جانوں کولاحق خطرات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنےوالے یہ دو لاکھ سے زیادہ بچے خیبر پختونخوا کےمختلف اضلاع میں منتقل ہوئے ہیں۔ یہ بچے خود بھی مختلف بیماریوں کا آسان شکارقراردیے جاتے ہیں اوران کی وجہ سے دوسرے بچوں کے متاثرہونے کا بھی خطرہ ہے۔ ماہرین کے مطابق متاثرین کے لئے پینے کا صاف پانی میسرنہ ہونا بھی ان کے صحت کولاحق خطرات کی ایک وجہ ہے ۔جس کی وجہ سے یہ آئی ڈی پی بچے ملیریا، قے اور دست ،خسرہ اور جلدی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے اعدادوشمار کے مطابق شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کر نے والے 40 فیصد بچے صاف پانی نہ ملنے کی وجہ سے خطرے میں ہیں۔ماہرین صحت کہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں اتنی بڑی تعداد میں آئی ڈی پیز کوصحت کی سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کے بس سے باہرہے لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگرصوبائی حکومت دستیاب وسائل کوہی ٹھیک طریقے سے کام میں لائے توان بحرانوں کی شدت کسی حد تک کم کی جاسکتی ہے۔