28 اگست 2014
وقت اشاعت: 18:14
چمن :پاک افغان سرحد باب دوستی پر انسدادپولیومہم متاثر
کوئٹہ......چمن میں پاک افغان سرحد باب دوستی پر تعینات انسدادپولیوٹیم ایک ماہ سےویکسی نیشن کی منتظرہے،ویکسین کی عدم دستیابی کے باعث انسداد پولیومہم بند ہے،مہم کی بندش کو دس دن سے زائد ہو گئے ہیںجس کی وجہ سے 8ہزاربچےپولیو سے بچاؤ کے قطرے پیئے بغیر ہی پاکستان میں داخل ہوچکےہیں۔ چمن میں پاک افغان بارڈرپرباب دوستی ہے جو افغانستان کے ساتھ آمدورفت کا مرکزی راستہ ہے ۔اس راستے کےذریعے ہرروز تقریبا 15 سے 20 ہزار افراد پاکستان اورافغانستان میں آتے اورجاتے ہیںجن میں بچوں کی تعدادتقریبا 800 ہوتی ہے۔حکومت نے پاکستان میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز کی روک تھام کے لئے باب دوستی پر سن 2012 میں انٹرنیشنل پولیو انٹری پوائنٹ بنایا۔ اس کے قیام کا مقصد افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے بچوں کو پولیوسے بچاؤ کے قطرے پلاناتھا ۔یہ عمل تقریبا ڈیڑھ سال تک ہی تسلسل سےجاری رہ سکا،لیکن پھر فنڈز کی کمی نے آہستہ آہستہ پولیو سے بچاؤ کا یہ طریقہ بری طرح متاثر کیااوراب صورتحال یہ ہے کہ ایک ماہ سے پولیو ویکسی نیشن کی قلت اورچارماہ سےاسٹاف کی تنخواہوں کی بندش نے حالات ابترکررکھے ہیں ۔پولیوٹیم نے انکشاف کیاہے کہ صرف دس دن سے مہم معطل ہے اس دوران تقریبا 8ہزار بچے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پیئے بغیر ہی پاکستان میں داخل ہوچکے ہیں۔ ایسے میں ٹیم ممبران زیادہ تروقت فارغ بیٹھ کر گذارتے ہیں۔ محکمہ صحت بلوچستان کا کہنا ہے کہ فنڈز کی قلت کی وجہ سے باب دوستی پر تعینات پولیو ٹیم کو ویکسی نیشن نہیں پہنچ پارہی ۔فنڈز ملتے ہی ویکسی نیشن اورتنخواہیں جلد جاری کردی جائیں گی۔فنڈزکی قلت اپنی جگہ لیکن شمالی بلوچستان کے عوام کہتے ہیں کہ اگرسنجیدگی سے کام نہ لیاگیا تو کوئی سرحد ی باڑ پولیو جیسی خطرناک بیماری وطن عزیزمیںگھس کر اپنےپنجے گاڑھنے سے نہیں روک سکے گی۔