13 جنوری 2012
وقت اشاعت: 8:18
ہماری کہکشاں میں ہر ستارے کا اپنا سیارہ
ایک نئی تحقیق کے مطابق آسمان پر دمکنے والے ہر ستارے کا کم از کم ایک سیارہ ضرور موجود ہے۔
اگر یہ بات ثابت ہو جاتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ ہماری کہکشاں میں زمین جیسا حجم رکھنے والے دس ارب کے قریب سیارے پائے جاتے ہیں۔
خلائی سائنسدانوں اور محققین کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے ’گریویٹیشنل مائیکرو لینزنگ‘ نامی تکنیک کی مدد سے کئی نئے سیارے دریافت کیے ہیں جن سے یہ پتہ چلا ہے کہ ایسے اربوں سیارے اور بھی موجود ہیں۔
یہ تحقیق امریکی فلکیاتی سوسائٹی کے دو سو انیسویں اجلاس میں پیش کی گئی ہے۔ اسی اجلاس میں کائنات میں دریافت ہونے والے مختصر ترین سیاروں پر بھی رپورٹ سامنے آئی ہے۔
’گریویٹیشنل مائیکرو لینزنگ‘ وہ تکنیک ہے جس میں ایک دوردراز ستارے کی کششِ ثقل کو اس سے بھی کہیں دور واقع ایسے ستارے کی روشنی کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس کا کوئی سیارہ ہو۔
اس مشن پر کام کرنے والی بین الاقوامی ٹیم نے ایسے چالیس واقعات دیکھے جس میں ایک ستارہ دوسرے ستارے کے سامنے سےگزرتا دکھائی دیا جبکہ تین مرتبہ انہوں نے دوردراز ستاروں کے گرد سیاروں کی گردش نشاندہی کی۔
اگرچہ ایسے واقعات کی تعداد زیادہ نہیں لیکن محققین یہ اندازہ لگانے میں کامیاب رہے کہ کائنات میں کتنے سیارے لازمی ہونے چاہیئیں۔
یہ تحقیق سائنسی جریدے نیچر میں بھی شائع کی گئی ہے اور اس تحقیقاتی عمل میں بیس بین الاقوامی اداروں اور جامعات نے حصہ لیا ہے۔
تحقیقاتی ٹیم کے رکن اور برطانیہ کی سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی کے ڈاکٹر مارٹن ڈومینک کا کہنا ہے کہ ’گزشتہ پندرہ برس میں نظامِ شمسی سے پرے دریافت ہونے والے سیاروں کی تعداد صفر سے سات سو تک جا پہنچی ہے اور ہمیں امید ہے کہ صرف ہماری کہکشاں میں اربوں سیارے پائے جاتے ہیں‘۔
زیادہ تر نئے سیاروں کی دریافت کا سہرا کیپلر دوربین کے سر باندھا جاتا ہے جو ستاروں کی اس مدھم ہوتی روشنی کی نشاندہی کرتی ہے جو سیاروں کے اس کے سامنے سے گزرنے کے موقع پر کم ہوجاتی ہے۔
یہ طریقہ اپنے ستاروں کے قریب واقع بڑے سیاروں کی تلاش کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے جبکہ ’گریویٹیشنل مائیکرو لینزنگ‘ ایسے سیاروں کی تلاش کے لیے موزوں ہے جو کسی بھی حجم کے ہوں اور کتنی ہی دوری پر کیوں نہ واقع ہوں۔
اس طریقے کے تحت عطارد کے حجم کے چھوٹے سیاروں سے لے کر زحل جیسے بڑے سیارے کے حجم کے سیاروں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔