11 دسمبر 2012
وقت اشاعت: 15:20
بلدیہ سانحے میں شھید 28افراد کا ڈی این اے آچکا ہے،ایدھی
اے آر وائی - سماجی رہنما عبدالستارایدھی نے کہاہےکہ سانحہ بلدیہ میں جاں بحق ہونے والےتینتیس افراد کی لاشیں ابھی تک لاوارث ہیں۔ایدھی سرد خانے میں موجود لاشوں کےدوبارہ ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ مل گئی ۔البتہ ورثاء کی رپورٹ نہ آئی ،جس کے باعث ورثاء تین ماہ گذرنے کےباوجود اب بھی در درکی ٹھوکریں کھانے پرمجبورہیں۔
سانحہ بلدیہ ٹاؤن،تین ماہ گذرگئے،جاں بحق افراد کے ورثاء کے مصائب کم نہ ہوسکے۔یہی نہیں بلکہ ہرگذرتے دن کے ساتھ ورثاء کی مصیبتوں میں اضافہ ہورہاہے۔ جانے والوں کی روح پرواز کرگئی ۔البتہ ان کی لاشوں کی تدفین نہ ہوسکی۔ ہوتی بھی کیسے؟تینتیس لاشیں اب بھی ورثاء کی منتظر ہیں۔ اور ورثاء در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ۔
سانحہ بلدیہ ٹاؤن میں ناقابل شناخت لاشوں کا دوبارہ ڈی این اے ٹیسٹ بھی مکمل کرلیاگیا۔ لیکن ورثاء کی ڈی این اے رپورٹ نہ آئی۔اےآروائی نیوز سے گفتگو میں سماجی رہنما عبدالستار ایدھی نے بتایااپنے پیاروں کی تلاش میں ورثاء دردر کی ٹھوکریں کھارہےہیں۔
ترجمان ایدھی کا کہناہے کہ لاشوں کے ٹکروں کوبھی علیحدہ لاشیں قراردینے کےبعد لاشوں کی تعداد اٹھائیس سے بڑھ کر تینتیس ہوگئی ہے۔ حکومت نے سانحہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے امداد کا اعلان کیاتھا۔ تینتیس لاشوں کے ورثاء کو میتیں ملیں نہ ہی امداد ۔