29 مارچ 2013
وقت اشاعت: 18:44
کنٹریکٹ افسران کو عہدوں سے فی الفور ہٹانے کا حکم
آج نیوز - سپرپریم کورٹ کے احکامات کے بعد نگراں حکومت نے کنٹریکٹ افسران کو عہدوں سے فی الفور ہٹانے کے احکامات صادر کر دیئے۔بہتی گنگا میں کس کس نے ہاتھ دھوئے،روٹی کپڑا مکان کا نعرہ بلند کرنے والی عوامی حکومت نے اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام کیلئے چاہے کچھ کیا ہو یا نہ کیا ہو مگر من پسند افراد کو بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھلوائے۔کراچی بے امنی کیس میں سپریم کورٹ نے بائیس مارچ کو کنکٹریکٹ پر تعینات افسران کو فی الفور ہٹانے کا حکم دیا تھا۔جس پر دیر سے ہی سے ہی مگر بلا آخر صوبائی نگراں حکومت نے عملدرآمد کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔یوں کنٹریکٹ پر بھرتی کئے گئے چھیاسی افسران برطرف کردیئے گئے ،ان چھیاسی چہیتوں میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے بھانجے پروفیسر سعید صدیقی بھی شامل تھے جو ایجوکیشن اینڈ لیٹریسی ڈیپارٹمنٹ سے ریٹائرڈ ہوئے جس کے بعد انہیں کنٹریکٹ پر چئیرمین بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن تعینات کیا گیا۔ گورنر سندھ کے برادر نسبتی فیروز اختر خان کو محکمہ صنعت سے ریٹائرڈنمنٹ کے بعد کنٹرولز پرنٹینگ اینڈ اسٹیشنری تعینات کیا گیا، سابق وفاقی وزیر خورشید شاہ کے بھائی سیدعبدالقادر کو انجینیر ورکس اینڈ سروسز سے ریٹائرڈنمنٹ کے بعد پروجیکٹ ڈائریکٹر سیلاب متاثرین بحالی اور تعمیر نو حیدر آباد تعینات کیا گیا،جبکہ سابق صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کے رفیق خاص اشفاق قادری کو محکمہ تعلیم سے ریٹائرڈمنٹ کے بعد بطور کنسلٹنٹ محکمہ تعلیم میں ہی تعینات کردیا گیا تھا۔نگراں صوبائی حکومت نے ان چھیاسی برطرف افسران کی تنخواہیں اور مراعات روکنے کا حکم بھی صادر کیا ہے ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس عمل سے قومی خزانے کو جو نقصان پہنچا اس کی تلافی کیسے ہوگی۔