31 مارچ 2013
وقت اشاعت: 8:39
بنوں: بم دھماکا، 2 افراد جاں بحق، سابق ایم پی اے زخمی
آج نیوز - ملک میں سیاسی گہماگہمی شروع ہوتے ہی دہشتگرد سرگرم ہوگئے، بنوں کے علاقے نورولی میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے سے سابق ایم پی اے عدنان خان وزیرچھ ساتھیوں سمیت زخمی اور دو افراد جاں بحق ہوگئے۔ جمہوری عمل شروع ہوتے ہی انتخابی جلسوں پر حملے کیا جمہوریت کیلئے خطرہ ہیں؟؟؟؟ ملک میں پہلی مرتبہ منتخب حکومت نے اپنی مدت پوری کی اور پہلی مرتبہ ہی آزاد الیکشن کمیشن کے تحت انتخابات ہونے جا رہے ہیں، ابھی ابتدائی مرحلہ مکمل ہوا ہی چاہتا ہے،،، سیاسی گہما گہمی ابھی شروع ہی ہوئی ہے کہ دہشت گرد جمہوری عمل کو ناکام بنانے کیلئے سرگرم ہوگئے۔ بنوں کے علاقے نورولی میں سابق ایم پی اے عدنان خان وزیر پانچ ساتھیوں سمیت بم حملے میں زخمی اور دوافراد جاں بحق ہوگئے۔ عدنان خان وزیرپر دھماکا اس وقت ہوا جب وہ اپنی گاڑی میں جلسہ گاہ جارہے تھے۔تو کیا طالبان نے اپنا کام شروع کردیا ہے؟؟؟ کیا جمہوری عمل کو ناکام بنانے کیلئے دہشت گردوں کے تیار کردہ خصوصی اسکواڈ نے کام شروع کردیا ہے؟ اگر ہاں تو سیاسی جماعتیں اور سیکیورٹی ادارے جمہوری نظام کو بچانے کیلئے کیا کر رہے ہیں؟