3 اپریل 2013
وقت اشاعت: 19:18
این آئی سی ایل کیس:امین فہیم،محسن وڑائچ کی ضمانتوں کا ریکارڈ طلب
آج نیوز - سپریم کورٹ نے این آئی سی ایل کرپشن کیس میں کراچی کی حد تک معاملہ نمٹا دیا ہے،عدالت نے مخدوم امین فہیم اور محسن وڑائچ سمیت دیگر ملزمان کی ضمانتوں کا نوٹس لیتے ہوئے ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے این آئی سی ایل کرپشن کیس کی سماعت کی،ایڈوکیٹ این ریکارڈ نے بتایا کہ امین فہیم کے وکیل ایس ایم ظفر نے پیش ہونے سے انکار کردیا ہے،ایف آئی اے کی جانب سے عدالت میں پیش کردہ پیشرفت رپورٹ میں بتایا گیا کہ امین فہیم کی کراچی میں دس ایکڑ زمین کی رقم موصول ہو گئی ہے،تاہم کیس کے ملزمان مخدوم امین فہیم اور محسن وڑائچ حفاظتی ضمانتوں پر ہیں،محسن وڑائچ ایک ماہ کی ضمانت پر ہے اور برطانیہ میں مقیم ہے،اکرم چیمہ نے چار کروڑ بیس لاکھ روپے کا چیک این آئی سی ایل کو دیا،چیک باوٴنس ہونے پر ملزم منظر سے غائب ہو گیا ہے،رپورٹ میں بتایا گیاکہ اشتہاریوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے وزارت داخلہ کو خط لکھ دیا گیا ہے،عدالت نے مخدوم امین فہیم سمیت دیگر ملزمان کی ضمانتوں کو نوٹس لیتے ہوئے ریکارڈ طلب کر لیا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ غیر حاضری میں ضمانتیں کیسے لی جا رہی ہیں،یہ عوام کی دولت ہے نہ آپ کو ملنے ہے نہ مجھے،معظم جاہ اور ظفر قریشی کے بعد کیس کی ہیئت ہی تبدیل ہو گئی ہے،تاہم انہوں نے کیس میں ذاتی دلچسپی لینے پر ڈی جی ایف آئی اے کی تعریف کی ہے،عدالت نے کیس کی مزید سماعت دو ہفتے کیلئے ملتوی کرتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے کو سماعت سے قبل رپورٹ جمع کرانے کاحکم دیا ہے ،عبوری حکم کے مطابق لوٹی گئی پینتالیس کروڑ رپے کی رقم لینا ابھی باقی ہے تاہم ایف آئی اے کے مطابق قومی خزانے کو کوئی نقصان نہیں ہو رہا،عدالت نے کہا ہے کہ ایف آئی اے ملزمان کو بیرون ملک سے لانے کیلئے کوششیں جاری رکھے۔