7 اپریل 2013
وقت اشاعت: 15:43
سابق صدر مشرف کی ملک آمد پر ن لیگ کی خاموشی
آج نیوز - سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سیاست نے عجیب رخ اختیار کر رکھا ہے۔ جو ان کی دشمنی کے نعرے لگاتے تھے وہ چپ کا روزہ رکھ کر پس منظر میں چلے گئے اور جو دوست تھے وہ ان کے خلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔کپتان پوچھتے ہیں کہ سابق صدر پرویز مشرف کی آمد پر نواز شریف خاموش کیوں ہیں، انہیں لگتا ہے کہ نواز شریف نے مشرف سے ڈیل کرلی ہے، ویسے بات تو سچ ہے لیکن شاید بات ہے رسوائی کی کیونکہ وہ پارٹی جس کی سیاست کی بنیاد ہی مشرف مخالفت تھی وہ مشرف کے آنے پر اتنا خاموش کیوں ہے، کیوں مشرف کے خلاف کسی حلقے سے نواز، شہباز یا چوہدری نثار میں سے کسی نے کاغذات نامزدگی داخل نہیں کرائے، ہر ایک بات پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے والی ن لیگ مشرف کے معاملے میں عدالت کا راستہ بھول کیوں گئی؟ کیا یہ سعودی عرب کی مقدس ہواوٴں کا اثر تو نہیں ہے کہ نواز شریف اسلامی تعلیمات کے عین مطابق اپنے دشمن کو معاف کرنے پر صدق دل سے تیار ہوگئے اور پیپلز پارٹی کو کیا ہوا جس کو بی بی کا قاتل ٹھہراتے تھے اس کے بارے میں اتنی بے اعتنائی۔ کچھ زیادہ دن نہیں گذرے جب پیپلز پارٹی والے کہتے تھے کہ مشرف ایک مجرم ہے اور اس کا استقبال اسی انداز سے ہوگا۔تو کیا کوئی ایک بھی جیالا مشرف کے خلاف احتجاج کرنے ایئرپورٹ جانے کو تیار نہیں ہوا۔اور نہ ہی الیکشن کمیشن میں اعتراض داخل کرایا۔ اعتراض کیا بھی تو اس پارٹی نے جس نے مشرف کو صدر بنانے کیلئے ووٹ دیا تھا یعنی جماعت اسلامی۔کبھی دین کے نام پر تو کبھی قوم کے وسیع تر مفاد میں ہر آمر کو کندھا فراہم کرنے والی جماعت اسلامی اس مرتبہ اپنے ہی دوست کی دشمن کیوں بن گئی، اس مرتبہ اشارہ کس کا ہے اورکس کے وسیع تر مفاد کا تحفظ کیا جا رہا ہے۔ خیر ابھی تو یہ ابتداء ہے اور اب تو عدلیہ بھی اس معاملے میں کود پڑی ہے، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔