8 اپریل 2013
وقت اشاعت: 15:33
سپریم کورٹ: غداری کیس ،سابق صدر مشرف کل طلب
آج نیوز - سپریم کورٹ نے غداری کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کو کل طلب کر لیا، بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کردی گئی ، عدالت نے موٴقف پیش کرنے کیلئے وفاق کو بھی نوٹس جاری کردیا ۔جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے پرویز مشرف غداری کیس کی سماعت کی۔ درخو است گذار مولوی اقبال حیدر کے وکیل اے کے ڈوگر نے اپنے دلائل دیئے۔انہوں نے موٴقف اپنایا کہ عدالت عظمیٰ اکتیس جولائی دو ہزار نو کے فیصلے میں پرویز مشرف کو آئین توڑنے کا مرتکب قرار دے چکی ہے۔ عدالت کے پاس اس فیصلے کی روشنی میں مشرف کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دینے کا جواز موجود ہے،جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ آئین توڑنے والا بغاوت کا مرتکب ہوتا ہے،ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے،تاہم کیس میں تمام فریقین کو صفائی کا موقع ملنا چاہئیے اور انصاف کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے وفاق سے بھی پوچھیں گے کہ ان کا اس بارے میں کیا موٴقف ہے،لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بار کی درخواست پر حامد خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ پرویز مشرف کو وطن واپسی پر گرفتار کرنے کیلئے سینیٹ میں قرارداد منظور کی گئی۔ وہ ملک چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ جو بھی شخص آئین توڑے اس کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کی جانی چاہیئے۔ اس پر جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ پرویز مشرف بھاگے نہیں بلکہ عزت کے ساتھ ملک چھوڑ کر گئے ،حامد خان نے کہا کہ ہائیکورٹ انہیں بادی النظر میں سنگین غداری کا مرتکب قرار دے چکی ہے،ایسے جرم کا مرتکب گرفتار ہونا چاہئے،اور بیرون ملک فرار سے روکنے کیلئے انکا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے احکامات جاری کئے جائیں،عدالت نے مشرف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے حکم دیتے ہوئے سیکریٹری داخلہ کو اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے کہ تمام فضائی یا زمینی راستوں سے وہ باہر نہ جا سکیں ، عدالت نے پرویز مشرف کو کل طلب کر لیا ہے اور آئی جی اسلام آباد اور صوبوں کے آئی جیز کے ذریعے نوٹس کی تعمیل کرانے کی ہدایت کی ہے،عدالت نے موٴقف پیش کرنے کیلئے وفاق کو بھی نوٹس جاری کردیا ہے۔