9 اپریل 2013
وقت اشاعت: 15:4
آرٹیکل 62 اور63 کیس کی سماعت،فل کورٹ بنچ تشکیل
آج نیوز - لاہور ہائیکورٹ نے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ پر عملدرآمد کیس کی سماعت کیلئے جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں فل کورٹ بنچ تشکیل دیدیا،جبکہ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کو کام کرنے کی اجازت دیدی گئی ۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ پر عملدرآمد کیس کی سماعت کی،سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک محمد اشرف کو کام کرنے کی اجازت دیدی ہے،الیکشن کمیشن کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ڈپٹی اسٹیٹ بینک کے کام کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے،ڈپٹی گورنر کا تقرر سیاسی بنیادوں پر نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر ہوا ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ پر عملدرآمد کیس کی سماعت کیلئے جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں فل کورٹ بنچ تشکیل دیدیا ہے،جو کل سماعت کریگا،جسٹس منصور علی شاہ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کاغذات منظور یا مسترد ہونے کیخلاف دائر اپیلوں کی فہرستیں مرتب کی جائیں۔نیب ، ایف بی آر ، اسٹیٹ بینک اور نادرا سے جو معلومات حاصل ہوئی ہیں،ٹربیونل کو بجھوائی جائیں،تاکہ ان کو دیکھا جاسکے،جو ریٹرننگ آفیسرز کاغذات کی منظوری یا نامنظوری کے وقت نہیں دیکھ سکے۔جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ٹربیونل کی سطح پر ان معاملات کو درست کیا جائے۔یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ باسٹھ اے کے تحت فیصلہ عدالت نے کرنا ہے یا عوام نے ووٹوں کے ذریعے کرنا ہے۔