9 اپریل 2013
وقت اشاعت: 15:24
سانحہ اوجھڑی کیمپ کو 25 برس بیت گئے
آج نیوز - سانحہ اوجھڑی کیمپ کو پچیس برس بیت گئے۔ واقعے کے حقائق سے پردہ کب اٹھے گا اور کب پورا سچ عوام کے سامنے آئے گا۔نواپریل انیس سو اٹھاسی کی صبح اچانک پاکستان کے جڑواں شہروں پر میزائل آگرے۔ مہم جوئی کسی دشمن کی نہیں تھی بلکہ سویت یونین کے خلاف جنگ میں افغان مجاہدین کو اسلحہ فراہم کرنے والا اوجھڑی آمونیشن ڈپو پراسرار طور پر پھٹ پڑا تھا۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد تیس جبکہ آزاد زرائع ہلاکتوں کی تعداد زیادہ بتاتے ہیں۔ اتفاق سے حادثہ اس روز پیش آیا جب امریکی وفد کو ہتھیاروں کے معائنے کے لیے پاکستان کا دورہ کرنا تھا۔ تحقیقات کے لییاس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو نے عسکری اور پارلیمانی کمیٹیاں بنائیں۔ سابق صدر ضیاء الحق نے جونیجو کو برطرف کیا تو پارلیمانی کمیٹی بھی لپیٹ دی گئی اور سترہ اگست کو ضیاء الحق کی طیارہ حادثہ میں موت کے بعد یہ باب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔ آج اس واقعے کو پچیس سال گزر گئے ہیں اس دوران جمہوری حکومتیں بھی آئیں اور آمر بھی حکمران بنے لیکن اوجھڑی کیمپ واقعہ شجر ممنوعہ بنارہا۔ کیا یہ راز ہمیشہ راز ہی رہے گا یا پھر کارگل کی طرح اوجھڑی کیمپ پر بھی کسی کتاب کا انتظار ہے۔