12 ستمبر 2013
وقت اشاعت: 14:54
سیکریٹری ایوی ایشن کی تبدیلی پر سپریم کورٹ کا اظہار برہمی
جیو نیوز - اسلام آباد…سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بادی النظر میں سیکرٹری سول ایوی ایشن کی تبدیلی سے انیتا تراب کیس میں عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی ہوئی ہے، جس پرنگراں وزیراعظم کو توہین عدالت کا نوٹس دیا تھا۔ اٹارنی جنرل نے مان لیا کہ سیکرٹری سول ایوی ایشن کی تبدیلی کا فیصلہ بغیر کسی سمری کے وزیراعظم میاں نواز شریف کا تھا۔ عدالت نے حکومت کو جواب جمع کرانے کیلئے کل تک مہلت دی ہے۔ سپریم کورٹ میں نیو اسلام آباد ائیر پورٹ کی تعمیر میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ سیکرٹری سول ایوی ایشن محمد علی گردیزی کو سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ لگانے اور ان کی جگہ نرگس سیٹھی کو سیکرٹری سول ایوی ایشن تعینات کرنیکامعاملہ زیرسماعت رہا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ یہ انیتا تراب کیس کی خلاف ورزی ہے جس پر نگراں وزیراعظم کو توہین عدالت کا نوٹس دیا تھا۔ زیر سماعت مقدمے سے منسلک کسی شخص کوبغیر ٹھوس وجوہات دوسری جگہ تعینات نہیں کیا جا سکتا۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل منیراے ملک کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ سمری منظورکئے بغیرسیکرٹری سول ایوی ایشن محمد علی گردیزی کاتبادلہ کس طرح کیاگیا؟ یہ ٹرانسفر پرنسپل سیکرٹری نہیں وزیراعظم کرتا ہے، جائیں پوچھ کر آئیں، عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر کس کو نوٹس جاری کریں۔ اٹارنی جنرل نے جواب داخل کرانے کے لیے کل کا وقت مانگا تو عدالت نے کہا کہ جواب توآپ تب دیں گے جب ہم نوٹس جاری کریں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اتھارٹی اپنی جگہ، ہمارے فیصلے کی کوئی بے توقیری نہ کرے، ہم کچھ دیر کیلئے اٹھ رہے ہیں،اگر آپ چاہتے ہیں کہ توہین عدالت کا نوٹس ہو تو نوٹس جاری کر دیں گے۔ وقفے کے بعدکیس کی سماعت شروع ہوئی تواٹارنی جنرل نے عدالت کوبتایاکہ معاملہ اعلیٰ ترین سطح پر نوٹس میں لایا گیا ہے۔عدالت کل تک موقع دے دے تو مناسب ہو گا۔ چیف جسٹس نیاٹارنی جنرل کوہدایت کی ہے کہ اس بات کویقینی بنائیں کہ معاملہ قانون کے مطابق حل ہو۔ کیس کی مزیدسماعت کل کی جائیگی ۔