12 ستمبر 2013
وقت اشاعت: 19:28
کچھ بااثر قوتیں امن کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں، چوہدری نثار
جیو نیوز - اسلام آباد … وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ ان کے سامنے کچھ ایسی باتیں آئیں ہیں جس سے یہ شواہد ملتے ہیں کہ کچھ با اثر طبقے اور قوتیں آل پارٹیز کانفرنس کی طرف سے پاکستانی طالبان سے مذاکرات کے ذریعے امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ایڈیٹر انویسٹی گیشن دی نیوز انصار عباسی سے بات چیت کرتے ہوئے کہ امریکا افغانستان میں 12 سال تک طاقت کے استعمال کے بعد طالبان سے امن کیلئے مذاکرات کررہا ہے تو پاکستان امن کیلئے مذاکرات کیوں نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت شام کے خلاف فوجی کارروائی پر آمادہ ہے لیکن اس کی پارلیمنٹ نے اس کو مسترد کردیا تو کیا ہم اس معاملے کو سرینڈر کہیں گے؟؟ ۔ چوہدری نثار نے کہا کہ ان حالات میں یہ حکومت اور طالبان دونوں کیلئے ضروری ہے کہ ان سازشوں کو سمجھتے ہوے وہ سنجیدگی اور دل جمی سے معاملات کو آگے بڑھائیں تاکہ پاکستان میں امن قائم کیا جا سکے۔ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ امن اور خیر کی راہ تلاش کرنا کون سا جرم یا گناہ ہے کہ مذاکرات کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 سال کی لڑائی اور جنگ سے کیا حالات میں بہتری آئی ہے کہ اب مذاکرات کے مخالفین اور ناقدین ہمیں پھر جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا سرنڈر اور امن پسندی میں فرق ہے، لڑائی اور فساد کو ختم کرنے کی کوشش نہ صرف پاکستان کے مفاد میں ہے بلکہ ہمارے مذہب میں یہ افضل مقام رکھتی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ناقدین آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں پر تنقید کا پورا حق رکھتے ہیں مگر انہیں یہ حق حاصل نہیں کہ قوم کی سیاسی و عسکری قیادت کے فیصلوں کی توہین کریں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ایک طرف تمام سیاسی اور فوجی قیادت کا مذاکرات کے آپشن پر متفق ہونا ایک انتہائی اہم اور خوشگوار امر ہے وہاں میرے نوٹس میں ایسی باتیں بھی آئی ہیں جس سے یہ شواہد ملتے ہیں کہ کچھ با اثر طبقے اور طاقتیں اس سنجیدہ کوشش کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔