16 ستمبر 2013
وقت اشاعت: 22:8
پونے دو سال میں772 اہلکار وں سمیت2385 شہری شہیدہوئے،وزیرداخلہ
جیو نیوز - اسلام آباد…وزیر داخلہ چودھری نثار علی نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ گزشتہ ایک سال 8ماہ میں دہشت گردی کے 2174 واقعات میں772 سیکیورٹی اہلکار وں سمیت2385 سویلین شہید ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی سے متعلق قانون مزید سخت کیا جاسکتا ہے۔وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ یکم جنوری 2012 سے 18 اگست 2013 تک ملک میں دہشت گردی کے 2 ہزار 174 واقعات ہوئے۔ ان واقعات میں 772 سیکیورٹی اہلکار اور 1613 سویلین جاں بحق ہوئے۔ اعداو شمار کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں میں سے 501 دہشت گردوں کے براہ راست حملوں میں شہید ہوئے۔اس عرصے میں 43 خود کش حملوں میں105 سیکیورٹی اہلکارجبکہ 369 سویلین جاں بحق ہوئے۔چوہدری نثار نے بتایا کہ گزشتہ کچھ سالوں میں 70 ہزار ہتھیاروں کے لائسنس جاری ہوئے جس سے دہشت گردی اور جرائم بڑھ گئے، اب لائسنس کے اجرا پر تین ماہ سے پابندی ہے اور جاری کیے گئے اسلحہ لائسنز کی تحقیقات کی جا رہی ہیں ،جو اسلحہ لائسنس ٹھیک ہوں گے انہیں کمپیوٹرائزڈ کر دیا جائے گا اور باقی منسوخ ۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کے ارد گرد کچی آبادیوں کی رجسٹریشن کے دوران پتا چلا ہے کہ وہاں 98 ہزار غیرقانونی افراد موجود ہیں جن میں اکثریت غیر ملکی اور جرائم پیشہ افراد کی ہے،کچی آبادیوں کو کلیئریا ریگولر کرنے کیلئے آئندہ چند دن میں اقدامات کریں گے، گزشتہ پانچ سال میں اسلام آباد سے 154 غیر ملکیوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے ایوان کو بتایا کہ کسی امریکی یا غیر ملکی سیکیورٹی کمپنی کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت نہیں، اگر کوئی ایسی کمپنی کام کررہی تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کی سبزی منڈی میں گزشتہ 12سال سے سالانہ 60 لاکھ روپے بھتہ وصول کیا جا رہا ہے جس میں ملوث چار پولیس اور دو سی ڈی اے اہلکاروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ ایک سوال پر وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ معصوم بچوں کو زیادتی سے بچانے کیلئے حکومت اور اپوزیشن مل کر قانون سازی کرسکتے ہیں اور اس حوالے سے قانون کو مزید سخت بنایا جا سکتا ہے۔