17 ستمبر 2013
وقت اشاعت: 20:12
قومی اسمبلی : آئی ایم ایف سے سخت شرائط پر قرض لینے کی تحریک پر بحث
جیو نیوز - اسلام آباد…آئی ایم ایف سے قرض لینے کے معاملے پر قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی ،ایم کیو ایم اورتحریک انصاف نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ پی ٹی آئی کے اسد عمر نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے خاتمے تک ڈالر 127روپے کا ہو جائے گا۔وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے کہا خزانہ خالی ہے، عوام کمر کس لیں اور پیٹ پر پتھر باندھ لیں۔قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران آئی ایم ایف سے سخت شرائط پر قرض لینے کی تحریک پر بحث کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی ڈاکٹر عذرا فضل نے کہا کہ عوام پر قرضوں کا بوجھ بڑھایا جا رہا ہے۔شازیہ مری نے کہا کہ آئی ایم ایف معاہدے پر نظر ثانی کی جائے اور یہ نظر ثانی ایوان میں کی جائے۔ تحریک انصاف کے اسد عمر نے کہا کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ دو ماہ میں 636ارب روپے کے نوٹ چھاپے، سابق حکومت نے ایک سال میں 500ارب روپے کے نوٹ چھاپے تھے جس پر بیڈ گورننس کا واویلا کیا گیا۔ ہمیں سخت اعتراض ہے کہ بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے یا نہ دینے کی بات آئی ایم ایف معاہدے میں شامل کی گئی ،یہ ہمارا اپنا فیصلہ ہونا چاہیے۔ایم کیو ایم کے خواجہ سہیل منصور نے کہا کہ قرضے اسی طرح بڑھتے رہے تو ملک کا دیوالیہ ہو جائے گا، قرضہ لینے کا جامع میکانزم تیار کیا جائے۔وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ آئی ایم ایف معاہدے کی تفصیلات ایوان میں پیش کی جائیں گی ،عوام دشمن پالیسیاں نہیں بنا رہے، خزانہ خالی ہے، عوام کمر کس لے، اور پیٹ پر پتھر باندھ لیں ۔ قومی اسمبلی میں جاری اس بحث کے صرف دو وفاقی وزراء زاہد حامد اور عبدالقادر بلوچ جبکہ دو وزرائے مملکت شیخ آفتاب اور عبد الحکیم بلوچ ہی ایوان میں موجود تھے ، حکومتی ارکان کی مجموعی تعدادبھی چالیس سے زائد نہ تھی ۔