12 اپریل 2014
وقت اشاعت: 12:47
لاہور:پولیس پرحملے کے ملزم9ماہ کے بچے کا نام مقدمے سے خارج
جیو نیوز - لاہور…لاہورکی مقامی عدالت نے پولیس پرحملے کے ملزم9ماہ کے بچے کا نام مقدمے سے خارج کر دیااور تھانے دارسے وضاحت طلب کرلی کہ 9ماہ کے بچے کا نام مقدمے میں شامل کیوں کرہوا،بتایاجائے؟دوسری طرف وکلاء ہڑتال کی وجہ سے گیس چوری اور پولیس پارٹی پرحملے کے اصل ملزم بچے کے والدین کے حوالے سے کیس پر کارروائی نہ ہو سکی9ماہ کے بچے موسیٰ اوراس کے والدین سمیت5افرادپر الزام ہے کہ انہوں نے اس وقت پولیس پارٹی پر حملہ کر دیا تھا،جب پولیس نے محکمہ سوئی گیس کی ٹیم کی ہمراہ گیس چوری کے الزام میں ان کے گھر پر چھاپا مارا تھا،گزشتہ سماعت پرعدالت نے بچے کی ضمانت منظورکرلی تھی،آج پولیس نے ایڈیشنل سیشن جج رفاقت علی کی عدالت میں موٴقف اختیار کیاکہ بچے کا نام غلطی سے مقدمے میں درج ہو گیا تھاجس پر عدالت نے موسیٰ کا نام مقدمے سے خارج کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایس ایچ او کو شوکاز نوٹس جاری کردیااور وضاحت طلب کی کہ بچے کانام مقدمے میں کیونکرشامل ہوا؟دوسری طرف وکلاء ہڑتال کی وجہ سے گیس چوری اور پولیس پارٹی پرحملے کے اصل ملزم بچے کے والدین کے حوالے سے کیس پر کارروائی نہ ہو سکی،جبکہ وہ میڈیا کے سامنے بھی نہ آئے اوربچے کادادایاسین ہی اسے گودمیں اٹھائے وکیل کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتا رہا۔یاسین کاکہناتھاکہ اگر اس کے گھرانے کے کسی فردکو کچھ ہوا تو اس کی ذمے دار پولیس ہو گی۔