15 اپریل 2014
وقت اشاعت: 3:25
کم از کم اجرت میں 4افراد کے کنبے کا بجٹ بنا کر دیں، سپریم کورٹ
جیو نیوز - اسلام آباد……سپریم کورٹ نے وفاقی وزارت فوڈ سیکورٹی کے کمشنر کو حکم دیا ہے کہ کم از کم اجرت میں 4افراد کے کنبے کا بجٹ بنا کر دیں جس سے وہ باعزت زندگی گزار سکتا ہو اور اسے غذا سے ضروری کیلوریز بھی ملیں۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ زرعی ملک میں لوگ بھوک سے مر رہے ہوں تو اپنی کرسی پر بیٹھ کر ندامت محسوس ہوتی ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جماعت اسلامی کے سیکریٹر ی جنرل لیاقت بلوچ کی آٹا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف آئینی درخواست پر سماعت کی۔ عدالتی معاون اور مسلم لیگ ن کے سینیٹر رفیق رجوانہ نے کہا کہ کسان اور عام آدمی کو کچھ نہیں ملتا فائدہ صرف مڈل مین کوہوتا ہے، افغانستان سے لوگ پہلے ہی پیسے دے کر گندم کی فصل خرید لیتے ہیں، اجناس کی اسمگلنگ کے حوالے سے ایف بی آر اور کسٹم حکام سے باز پرس کی جائے۔ عدالتی معاون نے کہا کہ مارکیٹ میں قیمتوں کے حوالے سے کوئی موثر چیک اینڈ بیلنس نہیں، ذخیرہ اندوز اور فلار ملز مالکان گندم اور کھجوریں خرید کر رمضان میں مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں اور پھر اسی پیسے سے حج اور عمرہ کرنے جاتے ہیں ۔ اس پر جسٹس جواد خواجہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود بلوچستان کے علاقوں سے بڑے بڑے ٹرالرز میں غذائی اجناس بیرون ملک جاتے دیکھی ہیں۔ عدالت کے استفسار پر وفاقی وزارت فوڈ سیکورٹی کے کمشنر نے عدالت کو بتایا کہ فصل کے تخمینہ کے لیے پٹواریوں کا نظام قابل اعتماد ہے جب کہ پاکستان کے غذائی معیار کے مطابق ایک شخص کو دن میں 2ہزار 350 کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے۔ عدالت نے وزارت کے کمشنر کو حکم دیا کہ وہ سرکاری طور پر طے شدہ کم از کم اجرت میں 4افرد کے کنبے کا ایسا بجٹ بنا کر دیں جس سے وہ باعزت زندگی گزار سکتا ہو اور اسے کھانے سے ضروری کیلوریز مل سکیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرل نے ملک میں غذائی اجناس کی صورتحال کے حوالے سے رپورٹ داخل کی تاہم عدالت نے اعداد و شمار پر مبنی جامع رپورٹ داخل کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عتیق شاہ، درخواست گذار کے وکیل توفیق آصف اور صوبوں کے لاء افسران پر مشتمل کمیٹی بھی بنا دی ہے جسے دور دراز علاقوں سمیت چاروں صوبوں میں آٹا کی قیمتوں کی رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔مقدمے کی مزید سماعت 22 اپریل کو کی جائے گی۔