20 اپریل 2014
وقت اشاعت: 0:51
حامد میر قاتلانہ حملے میں شدید زخمی،آپریشن کے بعد حالت خطرے سے باہر
جیو نیوز - کراچی…جیو نیوز کے اینکر پرسن اور سینئر صحافی حامد میر پر کراچی میں گزشتہ روز حملہ ہوا ،انہیں کراچی ایئر پورٹ سے نکلتے ہی نشانہ بنایا گیا ، حامد میر کو 3 گولیاں لگیں، ڈرائیورنے فوری طور پر حامد میر کو اسپتال منتقل کیاجہاں آپریشن کے بعد ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔اسپتال ذرائع کے مطابق آپریشن کرکے حامد میر کے جسم سے 3میں سے 2 گولیا ں نکال لی گئیں جس کے بعد ان کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔آپریشن کے بعد حامد میر کچھ دیر کے لیے ہوش میں آئے، اپنے ڈرائیور اور گارڈ کی خیریت دریافت کرکے غنودگی میں چلے گئے۔عینی شاہدین کی مدد سے حامد میر پرحملے میں ملوث ملزمان کے خاکے تیارکرلئے گئے ہیں ،تاہم فوری طور پر انہیں جاری نہیں کیا جائے گا۔حامد میر کے بھائی اور سینئر صحافی عامر میر کا کہنا ہے کہ حامد میر پر حملے میں آئی ایس آئی کے چیف لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام ملوث ہیں۔ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے عامر میر نے بتایا کہ حامد میر نے انہیں آگاہ کردیا تھا کہ مجھ پر حملہ ہوا تو اس کا ذمے دار کون ہوگا ۔عامر میر کامزید کہنا ہے کہ مجھے حامد میر نے پیشگی آگاہ کر دیا تھا کہ آئی ایس آئی کے چیف نے ان کے قتل کا منصوبہ بنایا ہے، اگر ان پر حملہ ہوتا ہے تواس کے ذمہ دار آئی ایس آئی کے چیف لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام اور آئی ایس آئی کے حکام ہوں گے۔حامد میر کا ان سے کہنا تھا کہ آئی ایس آئی کے بعض عناصر پرویز مشرف اور بلوچستان کے معاملات پر ان کے خیالات، نظریات اور موٴقف کے شدید خلاف ہیں۔ عامر میر نے انکشاف کیا کہ حامد میر نے مجھے بتایا کہ وہ ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کراچکے ہیں، وہ ویڈیو پیغام حامد میرکمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کو بھجواچکے ہیں۔ عامر میر کا کہنا تھا کہ حامد میر کو دہشت گردوں سے زیادہ آئی ایس آئی سے خطرہ تھا۔ حامد میر پر حملے کے خلاف ملک کے کئی شہروں میں صحافیوں نے احتجاج کیا اور آج بھی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا کہنا ہے کہ حامد میر کا آپریشن کامیاب رہا، ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ڈاکٹر عامر لیاقت نے عوام سے حامد میر کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اپیل بھی کی ہے۔