تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
6 مئی 2014
وقت اشاعت: 23:26

19 اپریل کو قومی سلامتی کے اداروں کیخلاف ایک لفظ نہیں کہا:جیو کا موٴقف

جیو نیوز - اسلام آباد…جیواور جنگ کے وکیل اکرم شیخ ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ جس براڈکاسٹ کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ ایک فرد کی رائے ہے، جیو نے فوج سمیت کسی ادارے پر کوئی الزام نہیں لگایا، جیو کے خلاف کوئی بھی غیر قانونی ایکشن لیا گیا تو مناسب جوڈیشل فورم سے رجوع کیا جائے گا۔اسلام آباد میں پیمرا کی جانب سے جیو کو جاری شو کاز نوٹس کی سماعت پیمرا ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ہوئی۔ سماعت کے دوران جیو اور جنگ کی جانب سے سینئر وکیل اکرم شیخ ایڈووکیٹ نے پیش ہوکر موٴقف اختیار کیا کہ چیئرمین کے بغیر پیمرا مکمل نہیں ہے اور شکایت کی سماعت نہیں کرسکتی۔ انہوں نے دلائل میں سپریم کورٹ کے جسٹس مسٹر جسٹس جواد ایس خواجہ کے 15جنوری 2013ء کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ چئیرمین کے بغیر اتھارٹی مکمل نہیں ہوگی۔ سماعت کے دوران اکرم شیخ ایڈووکیٹ نے کہا کہ جیو کے خلاف جو الزامات لگائے جا رہے ہیں ان کا کوئی ثبوت نہیں دیا جا رہا، جنگ گروپ کی 75سالہ خدمات ہیں، اس نے پاکستان کے قیام اور اس کی مضبوطی و اتحاد کیلئے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، وزارت دفاع، آئی ایس آئی اور پیمرا جو حکومتی ادارے ہیں، مل کرجنگ گروپ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہیں، ان کی جانب سے وطن دشمنی کے الزامات کے کوئی ثبوت ہیں اور نہ ان میں کوئی صداقت اور یہ مکمل طور پر بے بنیاد ہیں، لہٰذا ان کو واپس لیاجائے۔ اکرم شیخ نے کہا کہ جیو کی جانب سے آج کی سماعت میں خیر سگالی اور نیک نیتی کے جذبے کے تحت پیش ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جیو نیوز کی ٹرانسمیشن میں ایک لفظ بھی فوج کے خلاف نہیں کہا گیا، ہم پاک فوج کو ملک کی لائف لائین سمجھتے ہیں اور اس کا احترام کرتے ہیں، جیو نیوز کو جاری ہونے والا شوکاز نوٹس بھی جلد بازی کی کارروائی ہے، حامد میر پر حملہ کیس میں سپریم کورٹ کے تین معزز جج صاحبان کا جوڈیشل کمیشن قائم ہوچکا ہے اور اس معاملے کو پیمرا کی جانب سے الگ سے اٹھانا عدالتی کمیشن کے کام میں مداخلت کے مترادف ہے، کمیشن کی فائنڈنگز کا انتظار کیاجانا چاہئے۔ اجلاس میں ممبر پیمرا اسرار عباسی کے غیر مناسب رویے پر اعتراض اٹھایا گیا۔ اکرم شیخ نے کہاکہ پیمرا میں وزارت دفاع کی جانب سے بھجوائی گئی شکایتی درخواست 22اپریل کو رات گئے وصول کی گئی جبکہ پیمرا سرکاری وقت کے مطابق 4بجے بند ہوجاتا ہے اور پھر جلد بازی میں اگلے ہی روز 24گھنٹے سے بھی کم وقت میں جیو نیوز کو شوکاز نوٹس جاری کردیاگیا، جس سے پیمرا کی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے، شوکاز نوٹس پر پیمرا اتھارٹی کو تسلیم کئے جانے یا جیو/جنگ کے موٴقف کو حتمی جواب نہ سمجھا جائے۔ اجلاس میں آئی ایس آئی اور وزارت دفاع کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کہا کہ جیو نیوز کی نشریات کے دوران پاک فوج اور آئی ایس آئی کو تنقیدکا نشانہ بنایاگیا جو پیمرا قوانین کی خلاف ورزی ہے، لہٰذا فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے جیونیوز کی نشریات بند کردینی چاہی۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بابر اعوان نے بتایاکہ آج کے اجلاس میں دونوں طرف سے بیانات مکمل ہوگئے ہیں اور اس سماعت کے بعد اب اتھارٹی کے 9مئی کو ہونے والے اجلاس میں غور کے بعد کمپلینٹ اتھارٹی کو بھجوایاجائے گا جو فیصلہ کرے گی کہ کیا ایکشن لینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیس کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کیونکہ وہ خود بھی میڈیا ٹرائل کانشانہ بن چکے ہیں۔ جس پر جیونیوز نے ان سے پوچھا کہ آپ تو میڈیا سے متعلق خود biased ہیں توآپ آئی ایس آئی کا کیس کیسے میرٹ پر لڑسکتے ہیں؟ جس پر انہوں نے کہاکہ آپ کا سوال اچھا ہے لیکن ہر سوال کا جواب نہیں ہوتا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.