7 مئی 2014
وقت اشاعت: 17:25
عبدالستار ایدھی صحت یاب ،خدمت خلق کی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھال لیں
جیو نیوز - کراچی…معروف سماجی رہنما عبدالستار ایدھی صحتیاب ہوگئے ہیں جس کے بعد انہوں نے خدمت خلق کی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھال لی ہیں۔ایک چھوٹی سی ڈسپنسری سے بہت بڑے کام کا سفر شروع کرنے والے مولا ناعبد الستار ایدھی نہ صرف پاکستان کی پہچان ہیں ،بلکہ مصیبت میں گھرے افراد کے دکھوں کا مداوا بھی ہیں۔ جنوری 1928کو بھارت کی ریاست گجرات کے شہر بانٹوا میں پیدا ہونے والے عبدالستا ر ایدھی ، ملک اور بیرون ملک اپنے فلاحی کاموں کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ ایدھی صاحب کے دل و دماغ میں بچپن ہی سے خدمت خلق کا احساس تھا ،اسکول جاتے وقت انہیں دو پیسے ملاکرتے ،جن میں سے وہ ایک پیسہ خرچ کرتے اور دوسرا کسی ضرورت مند کو دے دیتے۔دوسروں کی مدد کے اسی جذبے نے ان کی زندگی کا راستہ متعین کیا۔انہوں نے 1951 میں کراچی میں ڈسپنسری قائم کی اور اسی ڈسپنسری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا۔ اْسی زمانہ میں کراچی میں بہت بڑے پیمانے پر فلوکی وبا پھیلی،ایدھی صاحب نے شہر کے نواح میں خیمے لگوائے اور مفت دوائیں فراہم کیں۔ بعد میں یہی ڈسپنسری ایدھی فاؤنڈیشن کی بنیاد ثابت ہوئی۔ خدمت خلق کے اس عظیم کام میں ان کی شریک حیات بلقیس ایدھی ان کی ہم قدم ہیں ،خاص طور پر خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود کیلئے وہ ہر وقت تیار اور مستعد ہیں۔ آج ایدھی فاؤنڈیشن ملک میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ گنیز بک آف ورلڈ رکارڈ کے مطابق ایدھی فاوٴنڈیشن کی ایمبولینس سروس دنیا کی سب سے بڑی فلاحی ایمبولینس سروس ہے۔ اسی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ، ملک میں بہت سے اسپتال کام کر رہے ہیں ،اس کے علاوہ یتیم خانے ،مردہ خانے،پاگل خانے،بلڈبینک اور دیگر فلاحی ادارے قائم ہیں۔ ملک ہی نہیں دنیا بھر میں ایدھی فاؤنڈیشن کی خدمات جاری رہتی ہیں۔یہ ایدھی صاحب کے کام کا اعتراف ہی ہے جس کی وجہ سے اسرائیل نے بھی انہیں اپنے یہاں آنے اور کام کرنے کی اجازت دی۔ انسانیت کی بے مثال خدمات پرعبدالستار ایدھی اور ایدھی فاؤنڈیشن کو بے شمار ملکی اور عالمی اعزازت ملے۔ اس سادہ مگر بہت بڑے شخص سے دنیا بھر کو متعارف کر انے کے لئے تہمینہ درانی نےA Mirror to the Blind کے نام سے ان کی سوانح حیات تحریر کی ہے۔جویقیناً انسانیت کے لئے کام کرنے والوں کے لئے مشعل راہ ہے۔