7 مئی 2014
وقت اشاعت: 23:37
یہاں تو بانیان پاکستان تک کو غدار کہا گیا
جیو نیوز - کراچی…کہتے ہیں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، لیکن کیا آنکھوں میں شرم بھی نہیں ہوتی؟ پاکستان دنیا کا ایک ایسا ملک ہے جس کے بانیوں کو بھی غدار کہا گیا۔ غداری کی یہ تہمتیں سہنے والے لوگ وہی ہیں جنھیں پاکستانی عوام کی ایک بڑی اکثریت اپنا ہیرو قرار دیتی ہے۔ پاکستان میں غداری کا طعنہ کوئی نیا نہیں۔ ہندوستان سے پاکستان کو الگ کرنے کی قرارداد پیش کرنے والے مولوی اے کے فضل الحق بھی غدار قرار دیے گئے اور بنگال کو پاکستان کا حصہ بنانے والے حسین شہید سہرودی بھی۔ نفاذ شریعت کے لیے پرامن جدوجہد کے قائل مولانا مودودی بھی غدار کہے گئے اور ملک میں سوشلسٹ انقلاب کے داعی شاعر فیض احمد فیض بھی۔ سن 71کے سانحے کے بعد باقی پاکستان کو اکٹھا رکھ کر 73کا متفقہ آئین بنانے والے ذوالفقار علی بھٹو بھی غدار ٹھہرائے گئے اور اس آئین میں اسلامی شقیں ڈلوانے والے مولانا مفتی محمود بھی۔ بلوچستان کو پاکستان میں شامل کرنے کی قرارداد پر دستخط کرنے والے بلوچ رہنما اکبر بگٹی کو بھی غدار کہا گیا اور پختونوں کی جمہوری جدوجہد کے سرخیل خان عبدالولی خان کو بھی۔ غداروں کی اس فہرست میں کبھی حبیب جالب کا نام آیا، کبھی احمد فراز کا، مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بے نظیر بھٹو پر بھی غداری کی تہمت دھری گئی اور حد تو یہ ہے کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناح کو بھی بھارتی ایجنٹ کہا گیا۔ آج غداروں کی اس فہرست میں کچھ نئے نام بھی شامل ہوئے ہیں۔ ان میں بلوچوں اور لاپتا افراد کے لیے آواز بلند کرنے والے حامد میر بھی ہیں اور مظلوم انسانوں، عورتوں اور اقلیتوں کا مقدمہ لڑنے والی عاصمہ جہانگیر بھی۔ ان میں پاک بھارت امن کے داعی امتیاز عالم بھی ہیں اور دہشت گردوں کو للکارنیوالے حسن نثار بھی اور شاید عوامی امنگوں کا ترجمان، جیو نیوز بھی۔ قوم کی ماں سے لے کر مشرق کی بیٹی تک یہ تہمتیں کیسے کیسے خوب صورت لوگوں پر لگیں ہیں۔ ہم پر بھی لگ گئی تو کیا۔
چھوڑا نہیں غیروں نے کوئی ناوک دشنام
چھوٹی نہیں اپنوں سے کوئی طرز ملامت
اس عشق نہ اس عشق پہ نادم ہے مگر دل
ہر داغ ہے اس دل پہ بجز داغ ندامت