27 مئی 2014
وقت اشاعت: 10:1
حامدمیر پر حملے کے بعدہماری نشریات حدسے متجاوز،پریشان کن، جذباتی تھیں،جیوجنگ گروپ
جیو نیوز - حامدمیر پر حملے کے بعدہماری نشریات حدسے متجاوز،پریشان کن، جذباتی تھیں،جیوجنگ گروپ
کراچی …جیو اور جنگ گروپ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ حامد میر پر حملے کے بعد ہماری نشریات حد سے متجاوز، پریشان کن اور جذباتی تھیں، ہم نے ہمیشہ پاک فوج اور اس کی قیادت کو عزت و احترام سے دیکھا، ہماری نشریات سے آئی ایس ائی اور اس کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام، ان کے اہل خانہ، مسلح افواج اور ناظرین کو دکھ پہنچا، اس پر ہم ان سے خلوص دل سے معافی مانگتے ہیں, یہ معذرت جنگ اور دی نیوز میں بھی شائع ہوچکی ہے۔ہر تعلق میں نشیب و فراز آتے ہیں اور غلط فہمیاں بھی جنم لیتی ہیں۔ اس کے باوجود ہمیں آگے بڑھنا ہے۔ آئیے ہم مل کر آئین کے اندر رہتے ہوئے کام کرنے اور قانون کے احترام کا عزم کریں۔ تاکہ ہم مل کر ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کر سکیں۔معروف صحافی حامد میر پر ہونے والے افسوس ناک حملے کے بعد میڈیا کے اندر بھی اور اس سے باہر مختلف حلقوں میں پریشان کن تبصروں اور تکلیف دہ مہم جوئی کا ایک ایسا سلسلہ شروع کیا گیا جس کے نتیجے میں ایسی صورت حال پیدا ہوگئی، جو ہمارے ملک کے وسیع تر مفاد کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ چونکہ قومی مقاصد کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی جیو اور جنگ گروپ کے لیے ہمیشہ باعث فخر رہی ہے لہٰذا موجودہ صورت حال میں ہم اپنے موقف کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ سب سے پہلے تو جنگ گروپ دو ٹوک الفاظ میں واضح کرنا چاہتا ہے کہ اس نے ہمیشہ پاکستان کی مسلح افواج اور اس کی قیادت کو عزت اور احترام کی نظروں سے دیکھا ، اور اپنی سرحدوں کے تحفظ اور ملکی سلامتی کے لیے ان کی قربانیوں کا ہر دور میں اعتراف کیا ہے اور یہ چیز ہمیشہ جنگ گروپ اور جیو نیوز کی ادارتی پالیسی کا بنیادی جزو رہی ہے۔ ادارے کی انتظامیہ اور اس کے تمام ارکان اپنے اس عزم پر ہمہ وقت کار بند اور عمل پیرا رہے ہیں اور انشا اللہ آئندہ بھی اس پر قائم رہیں گے۔ ہماری کبھی یہ نیت نہیں رہی کہ کسی بھی ادارے یا شخصیت کو بدنام کیا جائے یا اس کی توہین کی جائے۔ زیر بحث الزامات کا سب سے پہلے خود حامد میر نے تذکرہ کیا تھا، اور حملے کے فوراً بعد انہی کے گھرانے کے ایک فرد نے انہیں دہرایا۔ ہمارا مقصد ہمیشہ یہی رہا ہے کہ ہم باہمی بات چیت، رابطوں اور متوازن و معلوماتی مباحثوں کے ذریعے اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے اپنا عاجزانہ کردار ادا کریں، اور یہی چیز ذمہ دار اور آزاد صحافت کی شناخت اور طرہ امتیاز ہوتی ہے۔ اپنی سنجیدہ خود احتسابی، ادارتی مباحثے اور خود تک پہنچنے والی رائے عامہ کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ 19 اپریل کو حامد میر پر گزرنے والے سانحے اور تکلیف دہ حملے کے فوری بعد ہماری نشریات حد سے متجاوز، پریشان کن اور جذباتی تھیں۔ یہ نشریات اگرچہ میڈیا کے موجودہ طریقہ کار اور سلسلہ ہائے واقعات کے مطابق تھیں اور جس میں الزام کی خبر کے ساتھ ساتھ آئی ایس پی آر کا نقطہ نظر بھی ڈی جی آئی ایس پی آر کی تصویر کے ساتھ بار بار نشر کیا گیا تھا، اس کے باوجود انہیں گمراہ کن، غیرمتوازن اور نامناسب سمجھا گیا اور ان سے ایک مہم کا تاثر ملا۔ ان نشریات سے آئی ایس آئی کو بطور ادارہ، اس کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام، ان کے اہل خانہ اور مسلح افواج سے وابستہ تمام افراد اور ہمارے ناظرین کی بڑی تعداد کو جو دکھ پہنچا ، اس پر ہم ان سب سے خلوص دل کے ساتھ معافی کے خواست گار ہیں۔ ہر تعلق میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں اور غلط فہمیاں بھی جنم لیتی ہیں لیکن اس کے باوجود ہمیں آگے بڑھنا ہے۔ آیئے ہم مل کر آئین کے اندر رہتے ہوئے کام کرنے اور قانون کی حکمرانی کے احترام کا عزم کریں تاکہ ہم مل کر ایک مضبوط اور خوش حال پاکستان تعمیر کرسکیں۔