تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
30 مئی 2014
وقت اشاعت: 15:42

جیو اور جنگ گروپ کے خلاف شر پسند کارروائیاں جاری

جیو نیوز - راولپنڈی…پچھلے کئی دنوں سے جیو اور جنگ گروپ کے خلاف شر پسند کارروائیاں جاری ہیں۔ آج بھی راولپنڈی میں جنگ اور دی نیوز اخبار لے جانے والی وین جلا دی گئی۔ گروپ کو پیغام دیا جا رہا ہے کہ اپنا قبلہ درست کرے ،مخصوص صحافیوں کی چھٹی کریں۔اپنا قبلہ درست کریں اورہم سے تعاون کریں،ورنہ پھر برداشت کریں۔باخبر ذرائع کے مطابق یہ ہے وہ پیغام جو جنگ گروپ اور جیو کو مختلف ذرائع اور اقدامات کے ذریعے دیا جارہاہے ، پہلے جیو کی نشریات میں خلل ، پھر جیو کی نشریات کی بندش، پھر جیو نیٹ ورک کے دیگر چینلز کی بندش، پھر ادارے سے وابستہ صحافیوں اور کارکنوں کو دھمکیاں،پھر ادارے کے کارکنوں پر حملے ،جیو کی ڈی ایس این جی وینز اورکارکنوں پر حملہ اور اب جنگ گروپ کے اخبارات کی کاپیاں جلادی گئیں۔تازہ واقعہ راول پنڈی میں آج صبح پیش آیا جب جنگ اور دی نیوز کی کا پیاں لے جانے والی گاڑی کو دس سے بارہ مسلح افراد نے روک لیا ۔مسلح افراد نے پٹرول کے کین بھی اٹھا رکھے تھے ، انہوں نے وین پر حملہ کرکے جنگ اور دی نیوز کی ہزاروں کاپیاں جلادیں۔وین کو بھی جلادیا، ڈرائیورکو جان سے مارنے کی کوشش کی گئی اور وہ بمشکل جان بچا کر بھاگا جبکہ حملہ آور بھی اپنی کارروائی مکمل کرکے باآسانی فرار ہوگئے۔ترجمان جنگ گروپ کے مطابق واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد متاثرہ تعداد کے برابر جنگ اور دی نیوز کی کاپیاں دوبارہ چھپوائی گئیں۔اس سے پہلے 25 مئی کو لاہور میں ایبٹ روڈ پربھی نامعلوم مسلح افراد نے جنگ اور دی نیوز کی کاپیاں لے جانے والی وین کو روکا اور اس پر پٹرول چھڑک کر آگ لگادی۔اس واقعے میں بھی ڈرائیور بمشکل اپنی جان بچاپایا جبکہ جنگ اور دی نیوز کی بارہ ہزار کاپیاں جل کر خاک ہوگئیں ، ان واقعات کے بعد جنگ گروپ سے وابستہ افراد بھی خود کوہر وقت خطرے میں اورغیر محفوظ تصور کرنے لگے ہیں۔جنگ گروپ انیس اپریل کو حامد میر پر حملے کے بعد سے مخصوص افراد کے نشانے پر ہے ، جو مخصوص منصوبہ بندی کیتحت مختلف ہتھکنڈوں سے ادارے کو مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں ، غیر قانونی طور پر کیبل پر جیو کی نشریات کی بندش سے ادارے کو اربوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے ، اگرچہ انیس اپریل کی متعلقہ نشریات پر ادارہ وضاحت اور معذرت کرچکا ہے جسے عوام کے وسیع حلقے ، رائے عامہ کے رہنماوٴں اور علمائے کرام کی بڑی تعداد نے سراہا اور قبول کیا ، لیکن یہ محسوس کیا جاسکتا ہے کہ جنگ گروپ کی معذرت قبول نہیں کی گئی اورمخصوص عناصر کی جانب سے ادارے اور اس کے صحافیوں کے خلاف پروپیگینڈآ جاری ہے ، عدالتی حکم کے باوجود کیبل پر جیو کی نشریات بحال نہیں کی گئیں ۔کوئی حکومتی ادارہ نشریات بحال کروانے میدان میں نہیں آیا۔پیمرا کو کئی بار شکایات درج کروائی گئیں ۔سپریم کورٹ کے واضح احکامات آنے کے باوجود پیمرا ٹس سے مس نہیں ہوا ۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت بے بس اورخوفزدہ محسوس ہوتی ہے ۔ کیبل آپریٹرز ان طاقتورعناصر کے ساتھ ماضی کی طرح تعاون کررہے ہیں اور جیو گروپ کو اربوں روپے کا نقصان پہنچارہے ہیں ، آزادی صحافت کا گلہ گھونٹا جارہاہے ، جنگ گروپ اور جیو سے وابستہ صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی میں مشکلات کاسامنا ہے۔ مخصوص منصوبے کے تحت مخصوص عناصر کی جانب سے پاکستان بھر میں ادارے اور اس سے وابستہ افراد کے خلاف مقدمات کی بھرمار کردی گئی ہے۔ایک اندازے کے مطابق عدالتوں اور تھانوں میں سو کے لگ بھگ مقدمات درج کیے جاچکے ہیں۔ یہ پاکستان بھر میں کسی بھی صحافتی ادارے اوراس کے افراد کے خلاف مقدمات کی ریکارڈ تعداد ہے، یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے، بلکہ مخصوصی عناصر اب ایک قدم اور آگے بڑھ آئے ہیں ، باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جنگ گروپ کے سامنے یہ شرائط رکھی گئی ہیں کہ کچھ صحافیوں کو ادارے سے نکالیں ، اپنا قبلہ درست کریں اور تعاون کریں ۔ ورنہ پھر یہ سب یا اس سے بھی کہیں زیادہ اس ادارے کے ساتھ ہوتا رہے گا ۔


متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.