تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
2 جون 2014
وقت اشاعت: 20:14

صدر ممنون حسین کا خطاب، احتجاج کا سامنا نہیں کرنا پڑا

جیو نیوز - اسلام آباد…صدرمملکت ممنون حسین نے پارلیمانی سال شروع ہونے پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تاہم انہیں کسی احتجاج کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ اپوزیشن نے شور مچایا نہ صدر مملکت کے پسینے چھوٹے۔ حکومتی بنچز نے خوب ڈیسک اور تالیاں بجائیں۔ صدرمملکت ممنون حسین کے پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن سے خطاب کے موقع پر وزیراعظم میاں محمد نوازشریف 11بج کر 22منٹ پر ایوان پہنچے تو اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ پہلے سے موجود تھے۔ انہوں نے حکومتی ارکان کی تالیوں کے شور میں وزیراعظم سے ہاتھ ملایا۔ دیگر وزرائے اعلیٰ تو آئے لیکن وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نہ آئے۔ صدر ممنون حسین اسپیکر چیمبر میں داخل ہوئے تو قومی ترانہ بجایاگیا۔ تلاوت قرآن پاک کی گئی، اسپیکر نے صدرمملکت کو پارلیمنٹ سے خطاب کی دعوت دی تو آزاد رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کھڑے ہوگئے اور بغیر مائیک بولنا شروع کردیا۔ اس پر اسپیکر ان سے مخاطب ہو کرکہا کہ کیا، وہ صدر کے خطاب کے موقع پر ہونے والے مشترکہ اجلاس کی روایات سے آگاہ نہیں؟؟ پارلیمانی امور کے وزیرمملکت آفتاب شیخ جمشید دستی کی نشست کی طرف لپکے اور انہیں زبردستی بٹھادیا۔ صدر کاخطاب پرسکون ماحول میں شروع ہوا، صدرمملکت جب حکومتی اقدامات کی تعریف کرتے تو حکومتی ارکان اس کاجواب ڈیسک بجا کر یا پھرتالیاں بجاکردیتے۔ اس کام میں مسلم لیگ ن کی خواتین بازی لے گئیں۔ اپوزیشن کاکردارخاموش تماشائی سے زیادہ نہ تھا۔ مولانافضل الرحمان، محمود خان اچکزئی، عبدالغفور حیدری سمیت کچھ دیگر ارکان صدارتی خطاب کا متن پڑھنے میں مگن رہے۔ عمران خان اپنے مخصوص انداز میں دائیاں بازو نشست کے پیچھے لٹکائے بیٹھے رہے اور مسلسل سر پیچھے گھما کر جاوید ہاشمی اور عارف علوی سے بات چیت میں لگے رہے۔ اس دوران ایک موقع پرانہوں نے اپنا کالا چشمہ نکالا اور آنکھوں پر لگا کر ایوان کو دیکھا اور پھر اسے واپس جیب میں رکھ لیا۔ تقریباً چالیس منٹ بعد صدرمملکت کاخطاب ختم ہوا توعمران خان نے اپنی نشست پر کھڑے ہو کر کچھ کہنا چاہا تو اسپیکر نے اجلاس ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.