2 اکتوبر 2014
وقت اشاعت: 23:38
کراچی: ایک لاکھ سے زائد طلبہ وطالبات کے تعلیمی سال میں تاخیر
جیو نیوز - کراچی...... محکمہ تعلیم سندھ کی گیارہویں جماعت کے طلبا کے لیے ناقص مرکزی داخلہ پالیسی نے کراچی کے ایک لاکھ سے زائد طلبہ وطالبات کے تعلیمی سال میں تاخیر کردی ہے۔ کالج میں داخلہ کے خواہشمند طلبہ وطالبات اور ان کے والدین ڈی جی کالجزاور سندھ سکریٹریٹ کے چکر لگانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ وزیرتعلیم سندھ نثار احمد کھوڑو اور سکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہو نے کسی منصوبہ بندی کے بغیر حکم صادر کیا کہ اس سال گیارہویں جماعت کو آن لائن داخلہ دیا جائے گا۔ ہوسکتا ہے یہ فیصلہ اچھا ہو، لیکن محکمہ تعلیم کے افسران کی نااہلی نے اس فیصلہ کو متنازع بنادیااور اس کی سزا کراچی کے طلباکو دی گئی اور آن لائن مرکزی داخلہ پالیسی میں میرٹ کی دھجیاں بکھیردی گئیں۔زیادہ نمبر لینے والے طالب علموں کا نام مطلوبہ کالج کی فہرست میں آیا ہی نہیں اور کچھ طالب علم تو کسی بھی کالج کی داخلہ فہرست میں جگہ نہیں بناسکے ۔ آن لائن داخلہ سسٹم میں جابجا خامیوں نے طلبہ کو دہری پر یشانی میں مبتلا کردیا،،پہلے توآن لائن فارم بھرنا مشکل ، پھر لڑکے کی جگہ لڑکی اور لڑکی کی جگہ لڑکے کا نام آگیا۔ محکمہ تعلیم کے افسران کے کمیشن کے باعث طلبا کو آن لائن فارم کی رسیدسندھ بینک میں جمع کرانے کے لئے کہا گیا جس کی شہرمیں برانچیں بہت کم ہیں۔ داخلہ پالیسی آن لائن کرنے سےمحکمہ تعلیم نےاپنی ہی اسٹئیرنگ کمیٹی کےفیصلے کی دھجیاں بکھیر دیں اور کراچی کےایک لاکھ سے زائد طلبا کا ڈیڑھ ماہ ضائع کردیا جبکہ دوسری جانب نجی کالجوں میں کلاسزکا آغاز3 ماہ قبل ہوچکا ہے۔سرکاری کالجوں میں داخلہ لینے کے خواہشمندطلبا اب تک داخلہ کے عمل سے ہی گزر رہے ہیں۔ محکمہ تعلیم کے افسران کی غیر ذمہ داری اور بد انتظامی کے باعث طلبا کو پڑھائی اور امتحان کی تیاری کے لئے اس سال صرف 7سے 8 ماہ ملیں گے ۔طلبا نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کا قیمتی تعلیمی سال بچانے کے لئے حکومت دانشمندانہ اقدامات کرے۔