9 اکتوبر 2014
وقت اشاعت: 10:12
گزشتہ سال عیدالاضحیٰ پر کچی شراب سے 24 افراد ہلاک ہوئے تھے
جیو نیوز - کراچی..... افضل ندیم ڈوگر.....کراچی میں ایک سال پہلے بھی عید الاضحیٰ کے موقع پر کچی اور زہریلی شراب پینے سے چوبیس افراد ہلاک اور چھتیس متاثر ہوئے تھے۔ اس عید پر موت کے سوداگروں نے علاقہ بدلا، باقی سب کچھ وہی ہے۔پاکستان کا معاشی حب اور مرکزی شہر کراچی گذشتہ کئی دہائیوں سے بدامنی کا شکار ہے۔ ان واقعات کو کالعدم گروپوں کی کارروائیاں قرار دے کر پولیس خود کو بری الذمہ ظاہر کردیتی ہے۔ لیکن اس کے برعکس پولیس منشیات فروشی، جوئے کے دھندے اور لوٹ مار جیسے عام جرائم پر قابو پانے میں بھی ناکام رہی ہے۔ یہ عام معاشرتی جرائم بھی شہریوں کی لاتعداد اموات کا سبب بنتے ہیں۔ جیسا کہ ہر سال دو سال بعد کچی اور زہریلی شراب پینے سے درجنوں شہری لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ ایسے واقعات کے بعد شروع میں تو متعلقہ ادارے حرکت میں دیکھے جاتے ہیں۔ مقدمات کے اندارج کے بعد گرفتاریاں بھی کی جاتی ہیں۔ لیکن کچھ عرصے بعد میڈیا یا شہری حلقوں کی توجہ ہٹ جانے کے بعد ایسے کیسز بھی اپنی موت خود ہی مرجاتے ہیں۔ بالکل ایسا ہی گذشتہ سال عید کے موقع پر زہریلی شراب پینے سے دو پولیس انسپکٹرز سمیت 24 افراد کی ہلاکت کے مقدمے کا ہوا۔ اس واقعہ کے بعد شروع شروع میں تو پولیس اور متعلقہ ادارے حرکت میں رہے، حسب توقع اندھا دھند گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ چند ہفتے تک یہ مقدمہ عدالتوں میں ہائی پروفائل رہا لیکن پھر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ پولیس کے تفتیشی افسر نے ایک عرصے تک عدالت میں مقدمے کا چالان ہی جمع نہیں کرایا جس کی وجہ سے موت کے سوداگروں کو سزائیں ملنا تو درکنار پولیس کی مبینہ ملی بھگت سے وہ رہائی پاکر پھر موت کا کاروبار کرنے لگے۔ اس عید الاظہیٰ پر بھی عین وہی کچھ ہوا۔ مگر اس بار موت نے علاقہ تبدیل کرلیا، اس بار موت اعظم بستی میں نہیں بلکہ شرافی گوٹھ اور شاہ لطیف ٹاؤن میں فروخت کی گئی۔ باقی سب کچھ وہی تھا۔ یعنی عید کے دنوں کے دوران کچی اور زہریلی شراب پینے سے آخری اطلاعات ملنے تک ڈیڑھ درجن سے زائد افراد ہلاک ہوچکے اور کئی موت و حیات کی کشمکش میں اسپتالوں میں ہیں۔ اور پھر پولیس کی پھرتیاں، چھاپے، گرفتاریاں اور دعوے بھی بالکل نہیں بدلے۔ حسب سابق چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔شاید مزید کچھ بتانے کی ضرورت بھی نہیں۔مزید ایک سال گذرنے کا شاید پتہ بھی نہ چلے۔