25 دسمبر 2014
وقت اشاعت: 3:41
انسداد دہشتگردی کے ماہرین کی نفرت انگیز لٹریچر پر پابندی کی تجویز
جیو نیوز - اسلام آباد.........پارلیمانی کمیٹی کے ورکنگ گروپ نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے نفرت انگیز لٹریچر پر پابندی عائد کرنے کی تجویز دے دی، انتہا پسندی کو فروغ دینے والے اخبارات و جرائد پر پابندی عائد کی جائے گی۔انسداد دہشت گردی کےلیے پارلیمانی کمیٹی کے قائم کردہ 15 رکنی ورکنگ گروپ کا پہلا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ ذرائع نے جیو نیوز کو بتایا کہ ورکنگ گروپ کے ارکان نے ملک سے دہشتگردی کے تدارک کے لیے قلیل ، وسط اور طویل مدتی اقدامات کی تجاویز پر غور کیا ۔ذرائع کے مطابق ورکنگ گروپ نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مدارس کا دوبارہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا جبکہ مدارس انتظامیہ کی مدد سے انتہا پسندی اور دہشت گردی روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔اجلاس میں مربوط انٹیلی جنس نظام مرتب کرنے کے لیے عوام کی براہ راست معاونت لینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ۔ اجلاس میں نیکٹا کوآرڈینیٹر حامد علی خان، وزیراعظم کے معاون بیرسٹر ظفراللہ، وزیراعظم کے پرنسپل اسٹاف افسر فواد حسن فواد، انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ آفتاب سلطان ، آئی ایس آئی کے کاوٴنٹر ٹیررازم ونگ کے سربراہ ، سابق ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے طارق پرویز، طارق کھوسہ ، سابق سیکریٹری داخلہ تسنیم نورانی ، انسٹیٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کے عامررانا، لیفٹیننٹ جنرل (ر) آغا عمر، بریگیڈئیر واجد، خواجہ ظہیر ، شیریں مزاری ، اعظم خان اور رستم شاہ مہمند نے شرکت کی۔