25 دسمبر 2014
وقت اشاعت: 8:33
سندھ ہائیکورٹ:2 مجرموں کی 23 دسمبر کو پھانسی کے ڈیتھ وارنٹ معطل
جیو نیوز - کراچی.........سندھ ہائیکورٹ نےسکھر جیل میں 2 مجرموں کی پھانسی کے بلیک وارنٹ معطل کردیئے جبکہ سزائے موت کے مجرم عطا اللہ کو سکھر سے کراچی جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔ سکھر جیل میں سزائے موت کے مجرم محمد اعظم اور عطاء اللہ کے اہل خانہ کی بلیک وارنٹ کے خلاف درخواست کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں بینچ نے کی۔ دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور سپرنٹنڈنٹ سکھر جیل پیش ہوئے درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سزا کے خلاف تمام اپیلیں مسترد ہونے کے بعد سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی دوسری درخواست زیر التواانسداد دہشت گردی کی عدالت نے بلیک وارنٹ جاری کرتے وقت سپریم کورٹ میں موجود نظر ثانی کی درخواست کو نظر انداز کیا۔ درخواست گزار نے سپریم کورٹ کے فیصلے تک بلیک وارنٹ معطل کرنے کی استدعا کی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے سپرنٹنڈنٹ سکھر جیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو پھانسی کے رولز میں کی گئی ترمیم کا علم ہے، اگر آپ جانتے ہیں تو بلیک وارنٹ جاری ہونے کے 7دن بعد پھانسی کی تاریخ مقرر کی جانی تھی 23دسمبر کیسے رکھ دی،تاریخ 26دسمبر بنتی ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نےکہا کہ حکومت خود قانون کا مذاق بنارہی ہے، اپنی مرضی نہیں قانون کے مطابق چلیں، سپرنٹنڈنٹ جیل سکھر نے ہائی کورٹ کے سابقہ حکم پر عمل درآمد کرنے کی یقین دہانی کرادی جس کے بعد عدالت نے 23دسمبرکوسکھر جیل میں 2 مجرموں کی پھانسی کے بلیک وارنٹ معطل کردیئے۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ دونوں مجرموں کو بلیک وارنٹ جاری ہونے کے 7دن بعد پھانسی دی جاسکتی ہے اس سے پہلے نہیں۔ محکمہ داخلہ متعلقہ اداروں سے نئے بلیک وارنٹ جاری کرائے۔ عدالت نے اپنے حکم میں مزید کہا کہ سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست ہے تو سپریم کورٹ سے رجوع کریں ، ہائی کورٹ حکم امتناع نہیں دے سکتی۔ مجرم عطا اللہ کو سکھر سے کراچی جیل منتقل کرنے کی درخواست پر محکمہ داخلہ کی جانب سے عدالت میں قیدیوں کو کراچی منتقل کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن جمع کرایا گیا۔ڈی آئی جی جیل اورایڈووکیٹ جنرل سندھ نے مؤقف اختیار کیا کہ مجرموں کو سکھر سے کراچی منتقل کرنے پر، آئی جی جیل خانہ جات کو اعتراض ہے، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا آئی جی جیل محکمہ داخلہ اور حکومت سندھ سے بڑے ہیں، ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ عدالت میں موجود ہیں حکومت کا نوٹیفکیشن ہمارے سامنے ہے اور آپ کہتے ہیں آئی جی جیل کو اعتراض ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ عدالت کا وقت ضائع نہ کریں کیا، عدالت آئی جی کے گھر جاکر پوچھے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے دو طرح کے مؤقف آنا عدالت کی توہین کے مترادف سمجھے جاسکتے ہیں،پہلے بھی عدالت میں آئی جی جیل کہہ چکے ہیں، پھانسی سے پہلے قیدیوں کو کراچی لائیں گے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پھانسی کے مجرم کو اہل خانہ سے ملاقات سمیت دیگر حقوق حاصل ہیں۔