25 دسمبر 2014
وقت اشاعت: 9:37
پاک افواج نے آپریشن ضرب عضب کا دائرہ کار وسیع کردیا
جیو نیوز - راولپنڈی..........سانحہ پشاور کے بعد پاک افواج نے آپریشن ضرب عضب کا دائرہ کار مزید وسیع کردیا ہے اور اب دہشت گردوں کو وزیرستان کی دوسری ایجنسیوں میں ٹارگٹ کرنے کے سلسلہ بھی تیز ہوگیا ہے۔ سانحہ پشاور کے بعد حکومت پاکستان اور پاک افواج نے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن مزید تیز کرنے اور ملکی سرزمین پر ان کے مکمل خاتمے کا عزم ظاہر کیا۔ جس کا عملی مظاہرہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ آپریشن ضرب عضب جو کامیابی سے شمالی وزیرستان میں جاری تھا اب شمالی حصوں کی جانب بھی بڑھ گیا ہےاور آپریشن خیبر 1کی صورت میں نظر آرہا ہے۔ کرم ایجنسی اور خیبر ایجنسی کے علاقے باڑا کے بارے میں یہ اطلاعات ملیں کہ سانحہ پشاور میں حصہ لینے والے دہشتگردوں نے یہاں کسی خفیہ مقام پر تربیت لی۔پاک افواج نے خفیہ اطلاعات ملنے پر خیبر ایجنسی میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر16دسمبر کو 10 سے زائد فضائی حملے کیے اور 17 دہشتگرد کو ہلاک کیا جس میں ازبک کمانڈر اسلام الدین کے ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی آئیںجس کے بعد خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں مزید فضائی کاروائیاں دیکھنے میں آئیں۔ گزشتہ ہفتے تک ان فضائی کاروائیوں میں 60 سے زائد دہشتگردہلاک ہوچکے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ پاک افواج زمینی کارروائیاں بھی کررہی ہے۔ خیبر ایجنسی کے علاقے تنگئی سر، کونگانہ اور کوئیڈن میں پاک فوج کی زمینی کارروائی میں 18 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ وادی تیراہ میں ورم گئی اور اسپر کوٹ کے مقام پر پاک افغان بارڈر سے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے 32 دہشت گردوں کو بھی پاک آرمی کے زمینی دستوں نے کارروائی کرکے ہلاک کیا۔فضائی اور زمینی کارروائیوں میں اب تک 130 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر شمالی وزیرستان کی بات کی جائے۔تو شوال کے علاقے میں پاک فوج کی 30 بلوچ رجمنٹ کی چیک پوسٹ پر تقریباً 200 دہشت گردوں نے اتوا رکے روز حملہ کیا۔مگر پاک فوج نے اس حملے کو ناکام بناتے ہوئے جوابی کارروائی کو اور تقریباً 25 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔