26 دسمبر 2014
وقت اشاعت: 13:24
شدید سردی میں ملک کی بڑی آباد ی لنڈا بازاروں کا رخ کرتی ہے
جیو نیوز - ڈیرہ اسماعیل خان......... سردی جب برداشت سے باہر ہو جائے تو بعض لوگ گرما گرم پکوان کے مزے لیتے ہیں تو بعض لوگ خشک میوے سے سردی کو مات دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مگر ملک کی بڑی آباد ی اس صورت حال میں لنڈا بازاروں کا رخ کرتی ہے۔ ملک کے کئی علاقے دھند ،کہر اور یخ بستہ ہواوٴں کی زد پر ہیں ،سردی کی شدت کے باعث ہر شخص کے منہ سے بھاپ نکل رہی ہے، جن کی جیب گرم ہے، وہ گر ماگرم پکوانوں اور خشک میووں کے مزے لُوٹ رہے ہیں تو دوسر ی طرف ٹھنڈی جیب والی ملک کی بڑی آبادی لنڈا بازار وں میں فروخت ہونے والے غیر ملکی سیکنڈ ہینڈکپڑوں سے خود کو سردی سے بچانے کی کوشش کرتی نظر آتی ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ یہ کپڑا بند پر پورا آجائے۔درجہ حرارت نقطہ انجماد پر ہو تو خون جمنے لگتا ہے، ایسے میں لنڈا بازار کے کپڑوں کی مخصوص بو کون خاطر میں لاتا ہے ۔ کوٹ ،جیکٹ ، سویٹر ، جرابیں اور دستانے سب موجود تو ہیں ،لیکن انہیں پانے کے لئے کپڑوں کے ڈھیر میں ڈوب کر سراغ زندگی پانا پڑتا ہے ۔ اگر اچھی چیز مل جائے تو سب تعریف کرتے ہیں باہر کی چیز ہے ۔اگر کسی کو شک ہو جائے تو کہتا ہے کیا پہنا ہوا ہے اس میں تو لنڈے کی بو آرہی ہے ،مزاق بناتے ہیں۔ شدید سردی سے ٹھٹھرتے غریب پاکستانیوں کےلئے لنڈا بازار جیسے سستے بازار یقیناً نعمت سے کم نہیں ،ورنہ مہنگائی کے اس دور میں اچھے سوئٹر اور کوٹ خریدنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں رہی ہے۔