26 دسمبر 2014
وقت اشاعت: 13:24
اصولی طور پر فوجی عدالتوں کے حق میں نہیں، مولانافضل الرحمان
جیو نیوز - اسلام آباد..........مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وہ فوجی عدالتوں کے حق میں نہیں لیکن اگر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آئین میں گنجائش ہے تو اس پر غور کرسکتے ہیں۔جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں علما کے اجلاس سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک میں قیام امن کے لئے حکومت سے تعاون کرنا چاہتے ہیں، اگر آئین میں فوجی عدالتوں کی گنجائش ہے تو اس غور کیا جاسکتا ہے،اصولی طور پر ہم ملٹری کورٹس کے حق میں نہیں ہیں،مگر پاکستان کے معروضی حالات کے حوالے سے یا دہشت گردی کے خاتمے کی جو ضرورت ہے، پشاور کے واقعے کے بعد تو اسے آئینی حوالے سے دیکھا جائے کہ اگر آئینی حوالے سے گنجائش ہے تو ہم اس پر غور کرسکتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ دینی مدارس کے خلاف پروپیگنڈہ بین الاقوامی ایجنڈے کا حصہ ہے، قیام امن کے لئے مدارس رفیق بننا چاہتے ہیں، فریق نہیں، روز کسی نہ کسی ایجنسی کے لوگ مدرسے میں آجاتے ہیں کہ آپ ہمیں کوائف دیں یہ ردعمل پیدا کررہی ہے مدارس میں ناراضی کا سبب بن رہی ہیں، جو مدرسہ جس وفاق سے متعلق ہے اگر کسی ایجنسی نے معلومات لینی ہیں تو پھر اس وفاق سے اس کی معلومات لیں۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سزائے موت کے قیدیوں کی سزاوں پر عمل درآمد سے پہلے انصاف کے تقاضے ہر صورت میں پورے کئے جائیں۔