29 دسمبر 2014
وقت اشاعت: 19:10
خصوصی عدالتوں کی حمایت کرنے والی جماعتیں پیچھے ہٹنے لگیں
جیو نیوز - اسلام آباد..........خصوصی عدالتوں کی حمایت کرنے والی جماعتیں پیچھے ہٹنے لگیں، پارلیمانی کمیٹی کو متفقہ آئینی ترامیم کی تیاری میں مشکلات کا سامنا ہے، تحریک انصاف کے حامد خان نے عدالتوں اور پیپلز پارٹی کےاعتزاز احسن نے آئینی ترمیم کی مخالفت کردی۔ فوجی افسران کی سربراہی میںخصوصی عدالتوں کے فیصلے کے خلاف ملزمان کو اپیل کا حق دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم اے پی سی میں ان عدالتوں کی حمایت کرنے والی اکا دکا جماعتیں کچھ پیچھے ہٹنے لگی ہیں۔ قومی ایکشن پلان کے لیے آئینی ترامیم سے متعلق خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔اجلاس میں اسحاق ڈار، احسن اقبال، اعتزاز احسن، حامد خان،افراسیاب خٹک، مشاہد حسین سید، فروغ نسیم، بیرسٹر ظفر اللہ، خواجہ ظہیر اور اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں طے پایا ہے کہ خصوصی عدالتیں فاٹا سمیت ملک بھر میں قائم کی جائیں گی اورملزمان کو سپریم کورٹ میں اپیل کا حق دیا جائے گا، خصوصی عدالتوں کا دائرہ کار صرف دہشت گردی سے متعلق جرائم تک ہو گا اور اس حوالےسے شق آئینی ترمیم میں شامل کی جائے گی۔ اجلاس میں شریک ذرائع نے بتایا ہے کہ تحریک انصاف کے نمائندے حامد خان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ خصوصی عدالتوں کے قیام کی بجائے موجودہ عدالتی نظام کو مؤثر بنایا جائے، موجودہ عدالتی نظام کی خامیاں دور کرنا زیادہ بہتر ہو گا۔ اس پر حکومتی ارکان نے جواب دیا کہ پاکستان غیر معمولی حالات سے دوچار ہے ، اتحاد سے مضبوط فیصلوں کی ضرورت ہے۔ بیرسٹر اعتزاز احسن اور مشاہد حسین سید نے استفسار کیا کہ تحریک انصاف تو اے پی سی میں خصوصی عدالتوں کے قیام کی حمایت کر چکی ہے جس پر حامد خان نے کہا کہ پارٹی نے ان عدالتوں کے قیام کی حمایت کی ہو گی لیکن اب وہ ذاتی رائے دے رہے ہیں، بار کونسلز میں بھی اس پرتحفظات پائے جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن نے مؤقف اختیار کیا کہ خصوصی عدالتوں کے قیام کے لیے آئین میں بڑے پیمانے پر ترامیم نہیں کرنی چاہئیں،معمولی تریم کی جائے۔ ذرائع کے مطابق خصوصی عدالتوں کے قیام کے لیے سیاسی جماعتوں کی تجاویز کی روشنی میں آئینی ترامیم کو 30 دسمبر کو حتمی شکل دے دی جائے گی ۔