2 جنوری 2015
وقت اشاعت: 7:11
وزیرِ اعظم کی صدارت میں سیاسی قائدین کا اجلاس، کچھ دیر بعد
جیو نیوز - اسلام آباد.......قومی ایکشن پلان پر عملدرامد کیسے ہو گا، خصوصی عدالتوں کے قیام اور کام کا طریقہ کیا طے کیا جائے۔ وقت کے اہم ترین معاملات پرسیاسی قائدین کیا مشورہ دیتے ہیں،وزیرِ اعظم کی صدارت میں اجلاس کچھ دیر بعد شروع ہو نے والا ہے۔رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نوا زشریف کی زیر صدارت سیاسی جماعتوں کے قائدین کا اہم اجلاس آج ہوگا۔ دہشت گردوں کے خلاف قومی ایکشن پلان پر ہم آہنگی اوراتفاق رائے کا ا عادہ کیا جائے گا ۔اعلیٰ سیاسی قیادت آج پھر یکجا ہوگی ۔ بات ہوگی دہشت گردی کے خلاف طے کیے گئے عملی اقدامات ، خاص کر فوجی عدالتوں کی ۔جن پر تحفظات دور کرنے اور اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے وزیراعظم نواز شریف نے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بلایا ہے ۔ وزیراعظم کیساتھ چیرمین پیپلزپارٹی آصف زرداری ، پی ٹی آئی چیرمین عمران خان ، رہنما ایم کیو ایم فاروق ستار، امیر جماعت اسلامی سراج الحق سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان اور دیگر قائدین کی بیٹھک ہوگی ۔ آج کا اجلاس انسداد دہشت گردی کے اس 20 نکاتی قومی ایکشن پلان کوعملی شکل دینے کےلیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے ۔ جس کی منظوری 24 اگست کو پارلیمانی رہنماؤں کی طویل نشست کے بعد دی گئی ۔ اس اجلاس میں آرمی چیف انٹیلی جنس چیف بھی موجود تھے اور سب نے مل کر قومی ایکشن پلان پر اتفاق کیا تھا۔ پشاور سانحہ کے اگلے روز سیاسی جماعتوں کے قائدین اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوے وزیراعظم کی دعوت پر پشاور میں جمع ہوگئے تھے ۔ جہاں دہشت گردی کو جڑ ھ سے اکھاڑ پھینکنے کےلیے جامع منصوبہ بندی کیساتھ عملی اقدامات کرنےکا عزم ظاہر کیا گیا۔