4 اپریل 2013
وقت اشاعت: 9:8
برطانوی محکمے کا پاکستان کیلئے سالانہ امدادبڑھا نے پر غور
جیو نیوز - لندن…پاکستان میں امیر ٹیکس نہیں دیتے، پھر برطانوی عوام سے کیسے توقع رکھی جاسکتی ہے وہ پاکستان میں تعلیم اور صحت کی بہتری کیلئے ٹیکس دینگے۔ یہ بات برطانوی پارلیمنٹ کی ایک بااثر کمیٹی کے سربراہ میکلم بروس نے کہی ہے۔ برطانیہ کا بین الاقوامی ترقی کا محکمہ پاکستان کے لئے سالانہ امداد 26 کروڑ 70 لاکھ پاوٴنڈ سے بڑھا کر 44 کروڑ 60 لاکھ پاوٴنڈ کرنے پر غور کررہا ہے۔ عمل درآرمد کی صورت میں پاکستان برطانیہ سے سب سے زیادہ امداد لینے والا ملک بن جائے گا۔ برطانوی ایوان نمائندگان کی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کمیٹی کے سربراہ سر میلکم بروس نے جیو نیوز کے نمائندے مرتضیٰ علی شاہ سے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کو حقیقی غربت اور سنگین سیکورٹی مسائل کا سامنا ہے۔لیکن کمیٹی کو اس بات پر تشویش ہے کہ پاکستان میں غریبوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے ٹیکسوں کی وصولی ناکافی ہے۔ اگر پاکستان میں امیر اور بااثر طبقہ جائز انکم ٹیکس ادا نہیں کرتا تو برطانیہ میں عوام سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ پاکستان میں تعلیم اور صحت کی بہتری کے لئے ٹیکس ادا کریں گے۔