5 اپریل 2013
وقت اشاعت: 10:38
سپریم کورٹ،کراچی میں نو گو ایریاز سے متعلق رپورٹ پھر مسترد
جیو نیوز - کراچی…سپریم کورٹ نے کراچی بے امنی کیس کی سماعت کے دوران نوگو ایریاز سے متعلق پولیس اوررینجرز کی رپورٹ دوبارہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکم پر سات روز میں عملدرآمد کیا جائے ورنہ بلوچستان جیسے اقدامات کرنے پر مجبور ہوں گے۔عدالت نے 242 الاٹمنٹ کی تحقیقات سے متعلق کمیشن سے بارہ روز میں رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کراچی بے امنی کیس کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں ہوئی۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پولیس اور رینجرز کی نوگوایریاز سے متعلق رپورٹ دوبارہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی سندھ تین دن میں ایس ایچ او اور ڈی ایس پیز کے نوگوایریاز سے متعلق حلف نامہ پیش کریں۔سات دن میں نتائج نہ ملے تو بلوچستان کی طرح کا آرڈر جاری کریں گے۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ جے آئی ٹی رپوٹس بھی آنکھوں میں جھول جھونکنے کے مترادف ہیں۔اس سے قبل پولیس رپورٹ میں بتایا گیا کہ نوگوایریاز میں منگھوپیر، پی آئی بی کالونی ، عزیز آباد، اتحاد کالونی ، پیرآباد،سہراب گوٹھ ،صفورا گوٹھ،لیاری اور دیگر علاقے شامل ہیں۔ اس چیف جسٹس نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے دل میں معزز شخصیت کے نام پر قائم پی آئی بی کالونی کیسے نوگوایریا بن گیا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ایڈوکیٹ جنرل سندھ سے دریافت کیا کہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو شاذر شمعون کدھر ہیں۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ شاذر شمعون پانچ دن کی میڈیکل لیو پر ہیں۔ اس پرجسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ کیا ہم جب تک یہاں بیٹھیں ، وہ چھٹیوں پررہیں گے؟چیف جسٹس نے شاذر شمعون کو پیر کے روز سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پیش ہونے کا حکم دیا۔بعدازاں کراچی بے امنی کیس کی آئندہ سماعت 16 اپریل کو اسلام آباد میں ہوگی۔