تازہ ترین سرخیاں
 عالمی خبریں 
3 دسمبر 2013
وقت اشاعت: 1:0

معاہدہ نہ ہوا تو 2014ء کے بعد افغانستان میں فوج نہیں رکھ سکیں گے،نیٹو

جیو نیوز - برسلز…افغان صدر حامد کرزئی کی جانب سے دو طرفہ سیکیورٹی معاہدے پر دستخط سے انکار کے بعد افغانستان میں 2014ء کے بعد اتحادی افواج کی تعیناتی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی اور افغانستان کے لیے اربوں ڈالر کی امداد بھی خطرے میں پڑ گئی ۔افغان صدر حامد کرزئی کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکا کے ساتھ دو طرفہ سیکیورٹی معاہدے پر اگلے سال اپریل میں صدارتی انتخابات کے انعقاد تک دستخط نہیں کرسکتے۔ ساتھ ہی انہوں نے معاہدے کے 2نئی شرائط بھی پیش کی ہیں جن میں گوانتاناموبے جیل سے افغان قیدیوں کی رہائی اور افغانستان میں عام لوگوں کے گھروں پر چھاپوں سے اجتناب شامل ہیں۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل اندرے فوغ راسموسن کا کہنا ہے کہ اگر افغان صدر حامد کرزئی نے معاہدے پر دستخط نہیں کیے تو 2014ء کے آخر میں افغانستان سے نیٹو فوج کو مکمل طورپر نکال دیا جائے گا اور افغان فوج اور پولیس کی تربیت کے لیے 8 سے 12 ہزار فوجی رکھنے کی منصوبہ بندی بھی نہیں کی جاسکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک امریکا اور افغانستان کے درمیان معاہدے کے بغیر نیٹو فوج رکھنے کا فیصلہ نہیں کرسکتی۔ انہوں نے ا مید ظاہر کی کہ افغان صدر حامد کرزئی لویہ جرگے کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے معاہدے پر دستخط کریں گے۔دوسری جانب نیٹو حکام اور سفارتکار اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاہدے پر دستخط نہ ہوئے تو افغانستان کو سنگین نتائج کا سامنا ہوگا اور افغانستان کے سالانہ 8 ارب ڈالر کی امداد بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.