تازہ ترین سرخیاں
 عالمی خبریں 
28 مارچ 2016
وقت اشاعت: 14:14

گوگل کے ملازم بکرے !

جیو نیوز - کراچی.....انٹرنیٹ پر آپ کو اپنی تلاش کی ہر مطلوبہ چیز کچھ ہی سیکنڈ میں ڈھونڈ کر دینے والی سرچ انجن ”گوگل“ کے ہزاروں ملازمین میں 200 ملازم بکرےبھی شامل ہیں جنہیں باقاعدہ تنخواہ ادا کی جاتی ہے ۔

بھارتی اخبار”ہند سماچار“ کی رپورٹ کے مطابق گوگل نے کیلی فورنیا کے علاقے مائونٹین ویو میں واقع اپنی ہیڈ آفس کےلئے 200 بکریوں کو آفس کے لان میں اگی ہوئی گھاس کھانے کے لئے تنخواہ پر ملازم کے طور پر بھرتی کیا ہے جنہیں تنخواہ کے ساتھ دیگر مراعات بھی دی جاتی ہیں۔

بکریوں کو ہفتے میں ایک بارہیڈ آفس کے لان میں گھاس چرانے کے لیے لایا جاتا ہے۔ اس طرح صحن میں گھاس کی ٹریمنگ کے ساتھ ساتھ بکریوں کا پیٹ بھی بھر جاتا ہے۔ گوگل نے اپنےآفیشل بلاگ پربھی بکریوں کوبطور ملازم رکھنے کی تصدیق کی ہے۔ گوگل اپنے دفتر کے لان میں اگنے والی گھاس کی کٹائی کے لیے مشین استعمال نہیں کرتا کیوں کہ گھاس کٹائی والی مشین سے ماحول دشمن دھواں نکلتاہے اور گوگل اپنے ملازمین اور آفس کو ماحولیاتی آلودگی سے بچانا چاہتا ہے۔

گوگل کی ملازم بکریوں کے لیے چرواہوں کو بھی ٹریننگ دی گئی ہے تاکہ بکریوں کو دفاتر کے اندر جانے سے روکا جاسکے اور انہیں صرف دفتر کے لان تک گھاس چرنے تک محدود رکھا جاسکے۔ مشین کے ذریعے گھاس کٹائی کے بجائے بکریوں کے استعمال سے دفتر کے ماحول کو خوش گوار رکھنا ہے، کیونکہ بکریوں کی آواز سے سکون ملتا ہے۔

یاد رہے کہ بکریوں کے ذریعے گھاس کٹائی کا کام پہلی بار نہیں کیا گیا بلکہ 2007ء میں پہلی بار انٹرنیٹ کمپنی”یاھو“ نےبھی بکریوں کو اپنے آفس کے گھاس کھانے کے لئے ملازم کے طور پر رکھا تھا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.