تازہ ترین سرخیاں
 عالمی خبریں 
18 اپریل 2016
وقت اشاعت: 20:47

مودی حکومت نے قوم پرستانہ ثقافتی جنگ شروع کردی ، امریکی اخبار

جیو نیوز - واشنگٹن .........بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی طرف سے مذہب سے متاثر جارحانہ قومیت پرستی مسلط کرنے کی کوششوں نے ملک میں ثقافتی جنگ شروع کردی ہے، جو بی جے پی کے حامیوں اور بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والے اعتدال پسندوں کے درمیان لڑی جارہی ہے ۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کی ایک رپورٹ کے مطابق نئی دہلی کی جواہر لال یونیورسٹی میں کشمیری حریت رہنما فضل گورو کی برسی کے موقع پر تقریب کے حوالہ سے پروفیسر ایس اے آر گیلانی اور طلبہ کی گرفتاری اور اس کے خلاف احتجاج نے کٹر ہندو قوم پرستوں اور اعتدال پسندوں کے درمیان کشیدگی کی ایک نئی لہر پیدا کردی ہے۔

افضل گورو کو پھانسی دینے کے فیصلے کو بھارت خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں زبردست تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے نریندر مودی کی حکومت کی طرف سے جس جارحانہ قوم پرستی کو فروغ دیا جارہا ہے وہ لوگوں کو اس بات پر مجبور کررہی ہے کہ وہ ہر اس شخص کی مذمت کریں جس کو حکمران جماعت بی جے پی غدار قرار دے۔

وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد روایتی ایور ویدک ادویات ، یوگا ، سنسکرت کے فروغ کی مہم شروع کی اور جدوجہد آزادی کے رہنما سردار پٹیل کو خصوصی اہمیت دی ، مودی کے اس ہندو قوم پرست ایجنڈا کے فروغ کے خلاف گزشتہ سال کئی ممتاز بھارتی شخصیات جن میں ادیب بھی شامل تھے نے احتجاجاً قومی ایوارڈ واپس کئے حتیٰ کہ ایک مسلمان اداکار کو یہاں تک کہنا پڑا کہ وہ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ بھارت چھوڑنے پر غور کررہے ہیں۔

لیکن صورتحال کو بہتر بنانے پر غور کے بجائے حکمران بی جے پی نے الٹا انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا،ان تمام واقعات نے بھارت میں ایک نئی ثقافتی جنگ شروع کردی ہے جس میں ایک طرف مذہب سے متاثر بی جے پی کے حامی ہیں اور دوسری طرف اعتدال پسند ۔ اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ بھارتی حکومت حب الوطنی کے نام پر اپنے ہی شہریوں کو تقسیم کررہی ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.