تازہ ترین سرخیاں
 دلچسپ خبریں 
29 فروری 2016
وقت اشاعت: 17:40

دنیائے محبت کا پہلا اور قدیم ترین ’مصری تاج محل‘

کراچی ...انتخاب : مدیحہ بتول ...مصر دنیا کی ایک قدیم تہذیب کے خزانے اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے۔ انبیاء کی اس سرزمین میں جنم لینے والی تاریخی کہانیاں دنیا بھر میں دلچسپی سےپڑھی اور سنی جاتی ہیں۔

اسی سرزمین پر ایک عمارت ایسی بھی ہے جو ناصرف شاہجہاںکے تاج محل کی طرح شاہی محلوں میں پلنے والی محبت کی عظیم داستان اپنے دامن میں چھپائے ہوئے ہے بلکہ یہ عمارت تاج محل سے بھی زیادہ قدیم ہے ۔ اس بنا پر اگر اسے’ محبت کا پہلا تاج محل‘ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

مصر کی مشہور ’ویلی آف کنگز‘ کے سامنے کی جانب ایک عظیم الشان عمارت پہاڑی کے دامن میں میلوں دور سے اپنی آب و تاب کے ساتھ نظر آتی ہے۔ اس عمارت کا نام حاجبسوت ٹمپل ہے ۔اسے بنانے والا سینیمنٹ تھا۔ یہ عمارت موجودہ تاج محل سے ڈھائی ہزار سال پہلے کی ایک محبت کی نشانی ہے۔

سینیمنٹ ،ملکہ حاجبسو ت سے محبت کرتا تھا۔ ملکہ نے 23 سال یعنی 1458ق م سے 1479 ق م تک مصر پر حکومت کی۔وہ ایک جنگجو ملکہ تھی۔ سینیمنٹ نے ساری عمر شادی نہ کی ۔اس نے حاجبسو ت کے باپ کے دور میں بہت اچھی اور عالیشان عمارتیں بنائیں۔ وہ شاہی آرکیٹیکچر تھا۔ سینیمنٹ اپنے وقت کا ایک عظیم انجینئر، آرکیٹیکٹ اور ڈیزائنر تھا۔اس کی بنائی ہوئی عمارتیں پورے مصر میں پھیلی ہوئی ہیں اور ہر عمارت ایک شاہکار ہے۔

اس نے اپنی محبوبہ کو ملکہ سے فرعون بنانے میں کردار ادا کیا۔یہ دنیا کی پہلی خاتون حکمراں بنی۔ سینیمنٹ نے اس کی محبت میں یہ عمارت بنائی۔اس عمارت کے دو مقاصد تھے ایک تو یہ کہ ملکہ کو ایک دیوی کے طور پر پوجا جائے۔ دوسرے یہ کہ یہ عمارت اس کا مقبرہ بھی بنے لیکن سازشیوں نے ملکہ کواس عمارت میں دفن نہ ہونے دیا بلکہ ویلی آف کوئنز کے ایک شاندار مقبرے میں اسے دفن کیا گیا۔

پانچ سو سال تک اس کی پوجا بھی اسی ٹمپل یا مندر میں ہوتی رہی جبکہ ملکہ کی پوری زندگی کی داستان بھی اس عمارت پر لکھی ہوئی ہے ۔ ایک سچے عاشق نےاپنی محبت کو اس عمارت کے ذریعے لازوال کر دیا ۔

اب یہ شاہی دبدبے والی ملکہ قاہرہ کے عجائب گھر میں شیشے کے بکس میں اس طرح پڑی ہے کہ رنگ کالا کوئلہ اوراُوپری ہونٹ نچلے ہونٹ پر آکر سکڑ گیا ہے۔آدھے دانت باہر،ایک کان غائب اور دوسرا چہرے سے چپکا ہوا۔

ملکہ کی لاش ایک انتہائی خوبصورت کمرے سے اور بہت خوبصورت کفن میں برآمد ہوئی ہے۔ اگر مصر کا پرانا کلچر جاری رہتا تو آج بھی لوگ اس ملکہ کی عبادت کر رہے ہوتے ۔قدیم مصریوں کے مطابق وہ اب بھی حکومت کر رہی ہے لیکن جن پر حکومت کر رہی ہے وہ خود غائب ہو گئے ہیں-

یہ تھا سینیمنٹ کا سچا عشق،جس سے محبت کی اسے دیوی بنا ڈالا، کبھی اسے حاصل کرنے کی کوشش نہ کی۔

سینیمنٹ نے اپنی محبت کے ایک نہیں کتنے ہی بت بنائے۔ ان کی پوجا کرائی ایسے کہ پانچ سو سال تک لوگ اسےدیوی کے طور پر پوجتے رہے۔اس کا ٹمپل بنایا جو ساڑھے تین ہزارسال سے اس داستانِ عشق کا گواہ ہے۔

دشمنوں سے یہ محبت برداشت نہ ہوئی اور بیچارے سینیمنٹ کو سازشیوں نے ایسا غائب کیا کہ اس کی لاش کا آج تک پتہ نہیں چلا لیکن اس کے کارنامے اس کی بنائی ہوئی عمارات اور دیواروں پر کندہ تحریروں سےوہ آج بھی زندہ ہے۔اس کا اپنا ایک مجسمہ برآمد ہوا ہے جس میں وہ ملکہ حاجبسوت کی چھوٹی سی بیٹی کو گود میں لئے ہوئے ہے۔

یہ عمارت آرکیٹیکچر اور انجینئرنگ کا ایک کمال ہے ۔ دائیں بائیں بڑے بڑے برآمدے اور کمرے،ان کے درمیان سے ایک کشادہ ریمپ جس کی سیڑھیاں چار چار فٹ چوڑی ہیں۔ اس طرح تین منزلیں ان میں بڑے بڑے ستون اور ستونوں میں پندرہ پندرہ فٹ اونچے مجسمے بنے ہیں۔ان میں سے کچھ مجسمے غائب بھی ہیں۔

پہاڑی کے دامن میں واقع اس عمارت کو لاکھوں سیاح دیکھنے آتے ہیں۔ مکمل پتھر سے بنی یہ عمارت تین منزلہ ہے۔اس کی پہلی منزل میں بائیس ستون ہیں، اس کے اوپر دوسری منزل پر بتّیس ستون اور بہت بڑا صحن ہے۔

تیسری منزل کے چوبیس ستون او ربہت کشادہ صحن ہے۔ تینوں منزلوں کی کُل اونچائی 97 فٹ بنتی ہے ۔ارد گرد دُور تک باغات تھےجو دریائے نیل کے پانی سے سیراب ہوتے تھے۔

جہادکےنام پر اُٹھنے والے نام نہاد فتنے دنیا کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑرہے۔ انہوں نے بامیان کے تاریخی مجسموں کو توڑ دیا۔ایسے ہی ایک گروہ کے لوگوں نے جو فوجی وردی پہنے ہوئے تھے، 17نومبر1997کو اس عظیم الشان ٹمپل پر حملہ کیا۔سیاحوں کو ٹمپل میں گھیر کر آٹو میٹک ہتھیاروں سے حملہ کیااور 62 افراد کو مار ڈالا۔

بعد ازاں ا نہوں نے ایک بس اغوا کی اور اس میں فرار ہو گئے۔ایک چیک پوسٹ پر ایک مار اگیا اور باقی سب پہاڑیوں میں بھاگ گئے جہاں سے ان کی لاشیں ملیں۔ شائد انہوں نے خود کشی کی تھی۔(’’جنگ مڈویک میگزین ‘‘کی اشاعت مورخہ 20جنوری سے ماخوذ ایک مضمون )

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.