24 مارچ 2016
وقت اشاعت: 20:56
منفرد شادی جسے 18ہزار بیوائوں کا آشیرواد حاصل تھا
کراچی....مدیحہ بتول....بھارت میں آج بھی شادی بیاہ کی تقریبات میںکسی بیوہ کو بلانا برا شگون سمجھا جاتا ہے لیکن ایک بھارتی نے مذہب کے نام پر رائج اس فرسودہ روایت کو توڑنے کی جرأت کر ڈالی ۔
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق گجرات سے تعلق رکھنے والےایک کاروباری شخص،پٹیل عر ف جیتو نے اپنے بیٹے،روی کی شادی پر شمالی گجرات کے پانچ اضلاع سے 18 ہزار بیوائوں کومدعو کیا۔بانسکانتھا، مہسانا، صبرکنتھا، پتن اور اراولی نامی علاقوں سے تعلق رکھنے والی یہ بیوائیں شادی کی تقریب کی خصوصی مہمان تھیں۔
اس پر مسرت تقریب کے موقع پر جیتو کہتا ہے’’ یہ میری دلی خواہش تھی کہ نئے شادی شدہ جوڑے کو بیواؤں کی دعائیں ملیں۔ ہمارے ہندو معاشرے میںان خواتین کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ان کا شادی بیاہ کی تقریبات میں شرکت کرنا عام طور پر اپ شگن مانا جاتا ہے مگر میں بیٹے کی شادی میں ان کو دعوت دے کر یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ یہ سب کمزور عقیدے ہیں جن کا تعلق حقیقت سے نہیں۔‘‘
صرف یہی نہیں بلکہ تقریب میں شرکت کرنے والی بیواؤں میں کمبل بھی تقسیم کئے گئے۔ساتھ ہی ان میں پودے بھی تقسیم کئے گئے اور اس وعدے کے ساتھ کہ وہ اس پودے کو گھر کے آنگن میں لگاکر اس کی خوب پرورش کریں گی۔
اس کے علاوہ غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والی 500بیواؤں کو دودھ دینے والی گائیں بھی دی گئیں تاکہ وہ مالی طور پر خود کفیل ہوسکیں۔
اس موقع پر ایک 55 سالہ بیوہ ،ہنساکا کہنا تھا کہ اب سے میں امید کرتی ہوں کہ میرا گزر بسر اچھا ہو گاکیونکہ اب میری مالی معاونت کے لیے میرے پاس ایک گائے ہے، میں کبھی امیدنہیںکرسکتی تھی کے بیوگی کے بعد مجھے کبھی ایسی عزت بھی نصیب ہوگی۔