22 اکتوبر 2012
وقت اشاعت: 22:55
حفاظتی ٹیکوں کا اسٹاک ختم ہونے کے قریب، بچوں میں معذوری کا خدشہ
اسلام آباد … انکشاف ہوا ہے کہ وفاق اور صوبوں کے پاس بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کا اسٹاک ختم ہونے کے قریب ہے جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض بیماریوں کی ویکسین ختم ہوچکی ہے جس کے باعث بچوں میں معذوری کا خدشہ سر اٹھانے لگا ہے۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ وفاق اور صوبوں کے پاس بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کا اسٹاک ختم ہونے کے قریب جبکہ بعض بیماریوں کی ویکسین ختم ہوگئی ہے۔بچوں کو پیدائش سے ایک سال کے دوران تپ دق، تشنج، کالی کھانسی، خناق، پولیو، خسرہ، ہیپاٹائٹس بی، پولیو اور ایچ آئی بی کی ویکسین کا حفاظتی کورس کرایا جاتا ہے جبکہ وفاق و صوبائی حکومتوں کے پاس ٹیکوں اور ویکسین کا اسٹاک ختم ہونے کے باعث بچوں میں معذوری کا خدشہ سر اٹھانے لگا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاق میں تپ دق کی 37 اور پولیو کی ویکسین 14 دن کی باقی ہے۔ نیشنل منیجر ای پی آئی کا کہنا ہے کہ ویکسین ہنگامی بنیادوں پر بیرون ملک سے منگوانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ پنجاب میں پولیو سے بچاوٴ کی ویکسین 16 دن کی باقی رہ گئی ہے جبکہ سند میں تپ دق، خسرہ اور تشنج سمیت تمام طرح کی ویکسینز ختم ہوچکی ہیں اور صرف پولیو کی ویکسین کا اسٹاک 14 دن کا رہ گیا ہے۔خیبرپختونخوااور فاٹا میں بھی پولیو کی ویکسین 19 دن کی رہ گئی ہے جب تپ دق4 اور تشنج کی ویکسین 10 دن بعد ختم ہوجائے گی، دوسری جانب ڈپٹی ڈائریکٹر ای پی آئی خیبرپختونخوا نے عالمی ڈونرز سے امداد کی اپیل کردی ہ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ بلوچستان کے پاس تپ دق اور خسرہ کی ویکسین ختم ہوچکی ہے جبکہ تشنج کی ویکسین صرف 6د ن کیلئے موجود ہے۔