تازہ ترین سرخیاں
 صحت 
8 نومبر 2012
وقت اشاعت: 16:36

پنجاب کے ڈاکٹروں کے مطالبات کی منظوری پر پی ایم اے کی مبارکباد

کراچی…شبانہ شفیق…پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا ایک ہنگامی اجلاس پی ایم اے ہاؤس کراچی میں مرکزی صدر پروفیسرسید ٹیپوسلطان کی صدارت میں منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈاکٹر مرزا علی اظہر ، سیکریٹری جنرل پی ایم اے سینٹر، ڈاکٹر قیصر سجاد، خازن ، پی ایم اے سینٹر، ڈاکٹر آئی بی بلوچ، جوائنٹ سیکریٹری ، پی ایم اے سینٹر، نے شرکت کی۔پی ایم اے )سینٹر(نے پنجاب کے ڈاکٹروں کے دیرینہ مطالبات پورے ہونے پر انہیں مبارک باد پیش کی۔ڈاکٹروں کی تنظیمیں پی ایم اے، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ، میڈیکل ٹیچرز ایسوسی ایشن اینڈ جنرل کیڈر ڈاکٹرز ایسوسی ایشن۔ ایک طویل مدت سے اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہی تھی آخر کار انہیں کامیابی نصیب ہوئی۔اصولی طور پر گورنمنٹ آف پنجاب نے ڈاکٹروں کے 54 مطالبات تسلیم کئے ہیں جس میں تقرریاں ، ترقیاں ، بھرتیاں، سیلیری اسڑکچر، الاؤنسز و مراعات، قرض، لیز اور ٹریننگ وغیرہ شامل ہیں۔پی ایم اے مطالبہ کرتی ہے کہ اس معاہدہ کا اطلاق ازخوددیگر صوبوں میں بھی کیا جائے ۔ڈاکٹرز ویسے ہی بڑے مشکل حالات اور دباؤ میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔انہیں اپنی زندگی کا تحفظ حاصل نہیں ہے۔ان کو اضافی مراعات حاصل نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر حضرات بہتر مستقبل اور بہتر زندگی کی تلاش میں ملک چھوڑ رہے ہیں۔دریں اثناء پاکستان پائیڈریٹک ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر اقبال میمن نے کہا ہے کہ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں نمونیا جیسی بیماریاں بچوں کی زندگی سے کھیلتی ہیں۔ اب ملک کے تمام ای پی آئی مراکز پر نموکوکل ویکسین کی مفت دستیابی سے تمام متعلقین بشمول والدین، ماہرین امراض بچگان، حکومت، ماہرین صحت عامہ، سماجی اور کمیونٹی قائدین، منتخب عوامی نمائندوں، اور ڈاکڑوں کو چاہیئے کہ وہ نموکوکل امراض کو کم کرنے میں اپنااپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے یہ بات میڈیا کے نمائندوں سے نموکوکل امراض کی روک تھام کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔انہوں کے کہا کہ نموکوکل ایک انفیکشن ہے جو اسٹرپٹو کوکس نمونیابیکٹریم کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، اور اسے نمو کوکس بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ کوئی بھی فرد ،خصوصاً دوسال سے کم عمر کے بچے،نموکوکل سے قطعی مبرا نہیں ہیں۔ ”ترقی پذیر ممالک میں غربت کا شکار علاقوں میں بچے اس مرض کے خلاف زیادہ ناتواں ہوتے ہیں، لہٰذا انہیں اضافی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے“۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق نمو کوکل دنیا کے اول درجے کا ایک ایسا مرض ہے جس کی وجہ سے شیر خوار بچوں اور 5 سال سے کم عمر کے بچوں میں ہونے والی اموات کو ویکسین کے ذریعے روکا جا سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کویہ بات نمایاں طور پر پیش کرنی چاہیئے کہ روٹین کی امیونائزیشن صرف پولیو کے بارے میں نہیں ہے اور یہ پولیو، خسرہ، بی سی جی،خناق،تشنج، پرٹسسز،ہب، ہیپاٹائٹس ’بی‘ اور نموکوکل امراض سمیت نو امراض کے خلاف قوت مدافعت میں اضافہ کرتی ہے۔انہوں نے سماجی اور کمیونٹی قائدین،مذہبی علماء، پیش اماموں، اسکول ٹیچرز اور منتخب نمائندوں پر زور دیا کہ وہ ہر سطح پر لوگوں کو اس بات سے آگاہ کریں کہ وہ اپنے بچوں کو ویکسین دلوائیں تاکہ ان میں نمونو کوکل بیماریوں کے لئے خلاف مدافعت پیدا ہو سکے اور پاکستان کو پانچ سال سے کمر عمر کے بچوں کی شرح اموات میں کمی کرنے میں مدد مل سکے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.